سُچائی کی دریافت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۲۸
سُچائی کی دریافت
سورہ المائدہ میں ایک واقعہ کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83) ۔ یعنی، اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ ان کو حق کا عرفان حاصل ہو گیا۔
ایک اور موقع پر اسی قسم کی بات اس طرح کہی گئی ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (8:2) ۔ یعنی، ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں۔
ان آیتوں سے ایک اہم حقیقت واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ روحانیت کے سمندر میں نہا اٹھتا ہے ۔ اس کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے جو اس کی اندرونی شخصیت کو آخری حد تک منور کر دیتی ہے۔ سچائی کی دریافت کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے، اس سے زیادہ بڑا تجربہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس سچائی ہو وہ سب سے زیادہ طاقتور انسان ہے۔ وہ ایک تسخیری طاقت کا مالک ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں کو جیت سکتا ہے۔ وہ ہتھیار کے بغیر فاتح بن سکتا ہے ۔ بظاہر کوئی مادی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی وہ سب سے بڑی طاقت کا مالک ہے۔ سچائی پانے والے کے لیے سچائی ایک انقلاب ہے۔ اور سچائی رکھنے والے کے لیے سچائی ایک طاقت کا خزانہ ہے۔
کسی شخص کی زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ ہلچل پیدا کرنے والی ہے وہ سچائی کی دریافت ہے۔ کسی آدمی کا یہ احساس کہ میں نے سچائی کو اس کی بے آمیز صورت میں دریافت کر لیا ہے، اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues