عید مبارک
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۲۹
کے اندر فکر و خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے۔ اس قسم کا واقعہ کسی آدمی کے پورے اندرونی وجود کو متحرک کر دیتا ہے۔ وہ اس کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ خدا کا کلام صرف یہ نہیں کرتا کہ وہ انسان کو کچھ باتوں کی خبر دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ انسان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود چراغ کو روشن کر دیتا ہے۔ وہ انسان کے داخلی شعور کو خارجی حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔
انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر معرفت کا احساس رکھ دیا گیا ہے۔ مگر اس پوٹنشل احساس کو متحرک (activate) کرنے کے لیے خارجی مدد کی ضرورت ہے۔ خدا کا کلام یہی خارجی روحانی مدد فراہم کرتا ہے۔ خدا کے کلام سے رہنمائی پانے کے بعد انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ گویا اندھیرا گھر روشن ہو جائے یا سوکھا ہوا باغ لہلہا اٹھے۔
عید مبارک
عید آغازِ حیات کا دن ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک محدود مدت کے لیے کٹ کر بالکل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ عید ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ ہم خدا کو پاسکتے ہیں، ہم جنت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تزکیۂ نفس اور صبر اور تعلق باللہ کی جو دولت ہم نے رمضان کے دنوں میں پائی ہے، اس کو ساری زندگی میں پھیلا سکتے ہیں۔
جس طرح روزہ محض بھوک پیاس کا نام نہیں ہے۔ اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں ہے۔ روزہ کا مہینہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی خصوصی کوشش اور تربیت کا مہینہ ہے اور عید اس دور کا آغاز ہے جو روزہ کی تربیت کی بنیاد پر جاری ہونا چاہیے۔ کسی بزرگ کا قول ہے ــــ عید اس کی نہیں ہے، جو نیا کپڑا پہنے، بلکہ حقیقی عید اس کی ہے، جو قیامت کے دن خدا کی گرفت سے محفوظ ہو: لَيْسَ الْعِيْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِيدَ إِنَّمَا الْعِيْدُ لِمَنْ أَمِنَ الْوَعِيدُ عید کا دن چاہتا ہے کہ ہم نئی ایمانی قوت اور نئے ذوق یقین کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوں ۔ ہمارے دل خدا کے نور سے منور ہوں ــــ روزہ نے صبر اور تعلق باللہ کی جو طاقت دی ہے اس کو بھر پور طور پر استعمال کیجیے، تاکہ آخرت کی ابدی خوشی آپ کی منزل ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues