قوموں کا عروج و زوال
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳
قوموں کا عروج و زوال
قرآن کی سورہ الرعد میں بتایا گیا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا قانون کیا ہے۔ یہ فطرت کے ایک اصول پر مبنی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11) ۔ یعنی ، بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدل ڈالیں جو ان کے جی میں ہے۔
قرآن کی اس آیت میں مَا بِقَوْم سے مراد کسی قوم کی اجتماعی حالت ہے اور مَا بِأَنْفُس سے مراد کسی قوم کی انفرادی حالت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قوم کی اجتماعی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد کے اندر انسانی صفات (human qualities) اعلیٰ درجہ میں موجود ہوں۔ اس کے برعکس، کسی قوم کا اجتماعی زوال اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے افراد کے اندر اعلیٰ انسانی صفات باقی نہ رہیں۔ فرد کی حالت ہی پر ترقی کا انحصار بھی ہے اور تنزل کا بھی۔ کوئی گروہ اگر اجتماعی سطح پر ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے افراد کی اصلاح پر اپنی پوری طاقت کو صرف کرنا چاہیے۔ فطرت کا یہ قانون بتا تا ہے کہ کوئی قوم اگر گراوٹ کا شکار ہو جائے تو اس کو دوبارہ اٹھانے کا عمل کہاں سے شروع کرنا چاہیے ۔ اس کا واحد کارگر طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر پھر سے شعوری بیداری لائی جائے ۔ افراد کے سیرت و کردار کو بلند کیا جائے۔ افراد کے اندر اتحاد اور انسانیت کی روح کو جگایا جائے۔
قومی اصلاح کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس ، اگر قومی اصلاح کے نام پر عمومی تحریک (mass movement) چلائی جائے ، جلسوں اور عوامی تقریروں کے ذریعہ بھیڑ کو مخاطب کیا جائے تو ایسے عمل کا کوئی مطلوب نتیجہ ہرگز نکلنے والا نہیں۔ اس قانون کے مطابق، کسی قوم کی خارجی حالت ہمیشہ اس کی داخلی حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی قوم کے زوال کے وقت اس کی اصلاح کا آغاز داخلی محنت سے ہوگا ، نہ کہ خارجی کارروائیوں سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues