Al-Risala · March 2022 · page 32

انتظار کی پالیسی

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۳۲

انتظار کی پالیسی

سورہ یوسف میں پیغمبر یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ ان کے اوپر بہت سے سخت حالات پیش آئے۔ مگر وہ تقویٰ اور صبر پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کو سرفرازی عطا فرمائی۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّهُ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (12:90)۔ یعنی، جو شخص ڈرے اور صبر کرے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ حضرت یوسف کے ساتھ نصرت خداوندی کا جو معاملہ ہوا وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شام کے بعد صبح آتی ہے ۔ ایسا ہونا لازمی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اوپر جب اندھیری رات آئے تو انسان بے صبری اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہو، بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو جلد ہی وہ دیکھے گا کہ اس کے اوپر سورج طلوع ہو اور ہر طرف اجالا پھیل گیا۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کے مقرر کیے ہوئے نظام پر راضی رہے۔ اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں جس پر چل کر آدمی اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہو۔ قانون فطرت کے مطابق، اس دنیا میں کوئی ناکامی ابدی ناکامی نہیں۔ ہر نا کام "حال" کے ساتھ ایک کامیاب "مستقبل" جڑا ہوا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بے صبری کر کے اس نظام کو نہ بگاڑے ۔ وہ صبر کی پالیسی اختیار کر کے قدرت کے اگلے فیصلہ کا انتظار کرتا رہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے یہی پالیسی مفید بھی ہے اور یہی پالیسی ممکن بھی۔

فطرت کے اسی اصول کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— انتظار کرو اور دیکھو (wait and see)۔ یہ ایک عالمی تجربہ ہے جو اس مقولہ کی صورت میں ڈھل گیا ہے۔ اس معاملہ میں یہی مذہبی تعلیم بھی ہے اور یہی فطرت کا تقاضا بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page