شکایت کے باوجود
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۱
شکایت کے باوجود
فتح مکہ کا واقعہ رمضان 8 ہجری میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال 8ھ میں غزوہ حنین ہوا۔ فتح مکہ سے کچھ دنوں پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کے ایک حصہ کا سردار بنا دیا۔ یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر ہر طرح کی قربانیاں دے رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر کے اوپر جونیئر کو ترجیح دینے کا معاملہ تھا۔ تا ہم اس شکایت کے باوجود تمام انصار رسول اللہ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہر حکم کی اطاعت کی۔ خاتمہ جنگ کے بعد عرب رواج کے مطابق شاعروں نے اس کے بارے میں اشعار کہے۔ ایک شاعر عباس بن مرداس سلمی نے بھی اس موقع پر کچھ اشعار کہے۔ اس میں ایک طرف انصار کے حوالے سے اس شکایت کا بھی تذکرہ تھا کہ آپ نے خالد کو ترجیح دی اور ان کو قوم کے اوپر امیر بنا دیا (فَإِنّ تُكَ قَدْ أَمَّرْتَ فِي الْقَوْمِ خَالِدًا) مگر اسی کے ساتھ انصار کی ایمانی اسپرٹ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: وَقَالَ نَبِيُّ الْمُؤْمِنِينَ تَقَدَّمُوا وَحُبُّ إِلَيْنَا أَنْ نَكُونَ الْمُقَدَّمَا اور مسلمانوں کے نبی نے کہا کہ تم لوگ آگے بڑھو، تو ہمارے لیے یہ محبوب بن گیا کہ ہم آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والے ہوں (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ (470)۔
انصار کو اگر چہ ظاہری حالات کے مطابق شکایت تھی۔ مگر اس شکایت کو انھوں نے اپنے عمل پر اثر انداز ہونے نہیں دیا۔ شکایت کے باوجود وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ پوری طرح جڑے رہے۔ شکایت کے باجود وہ اسلام کے محاذ پر متحدہ طاقت بن کر کھڑے ہو گئے۔
موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ باہم شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ صحیح یا غلط اسباب کے تحت بہر حال ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے، حتی کہ رسول اور اصحاب رسول سے بھی۔ مگر مومن شکایتوں سے بلند ہوتا ہے، وہ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔ اسی لیے مومنین کی جماعت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شکایت اور اختلاف ان کے اتحاد کو درہم و برہم کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues