بہتر انسان
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۲
بہتر انسان
ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِکُمْ مِنْ شَرِّکُمْ؟ فَقَالَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: بَلٰی یَا رَسُولَ اللہ، اَخْبِرْنَا بِخَیْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: خَیْرُکُمْ مَّنْ یُّرْجٰی خَیْرُهُ وَیُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّکُمْ مَّنْ لَّا یُرْجٰی خَیْرُهُ وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2263)۔ یعنی، کیا میں تم کو تمہارے اندر اچھے اور برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں۔ آپ نے تین بار یہی بات کہی۔ پھر ایک شخص نے کہا ہاں اے خدا کے رسول، آپ ہم کو ہمارے اچھے اور برے کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: تم میں اچھا شخص ہے جس سے اس کے خیر کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ سلامت ہوں۔ اور تم میں برا شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور جس کے شر سے لوگ محفوظ نہ ہوں۔ یہ حدیث نہایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اچھا آدمی کون ہے اور برا آدمی کون ہے۔ اچھا آدمی وہ ہے جس کے بارے میں پیشگی طور پر یقین کیا جاسکے کہ جب بھی اس سے کسی کا سابقہ پیش آئے گا تو اس کو اس آدمی سے خیر ہی کا تحفہ ملے گا۔ اس سے جن لوگوں کو بھی تجربہ ہو گا درست قول اور نیک عمل ہی کا تجربہ ہوگا۔ کوئی بھی چیز اس کو اس پر آمادہ نہیں کرے گی کہ وہ لوگوں کے ساتھ خیر کے بجائے شر کا معاملہ کرنے لگے۔
ایسے آدمی کے اندر بلا شبہ شر بھی چھپا ہوا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کو بھی دوسروں کی طرح خلاف مزاج بات ناپسند ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بات پر اس کو بھی غصہ آتا ہے۔ اس کے اندر بھی نفرت اور عداوت کا طوفان جاگتا ہے۔ اس کو بھی نقصان اور زیادتی کے مواقع پر تکلیف ہوتی ہے۔ مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی اصولی حیثیت پر قائم رہتا ہے۔
وہ نفسیاتی جھٹکوں کو اپنے اوپر سہتا ہے۔ وہ خود کڑوا گھونٹ پی کر دوسروں کو میٹھا گھونٹ پلاتا ہے۔ وہ زیادتی کے واقعات کو اللہ کے خانہ میں ڈال دیتا ہے تا کہ وہ ڈسٹریکشن کا شکار نہ ہو، اور کامل یکسوئی کے ساتھ مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنی سرگرمی کو جاری رکھ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues