Al-Risala · March 2023 · page 35

قلِ سدید یا متعین کلام

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵

والے کے لیے وہ ایک غیر واضح کلام کی حیثیت رکھتا ہو۔

کوئی کلام خواہ وہ دین کی بابت ہو، یا دنیا کی بابت۔ وہ ایسا ہونا چاہیے کہ سننے یا پڑھنے والا، مزید تحقیق کر کے اس کی اصلیت کو دریافت کر سکے۔ کلام میں ایسا حوالہ موجود ہو، جو کلام کی صحت کو مزید جانچنے کے لیے کافی ہو۔ کلام مشتبہ یا ایسے الفاظ پر مبنی نہ ہو، جس میں ایک سے زیادہ معنی کا احتمال پایا جائے، بلکہ ایسے الفاظ پر مبنی ہو، جو سامع کے لیے پہلے سے معلوم، اور متعین ہوں، جو اپنے معنی میں اتنا واضح ہو کہ سنتے ہی سمجھ میں آجائے۔

کلام سدید کے لیے یہ بات بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ اس میں جو بات بھی کہی جائے، خواہ وہ منفی بات ہو یا مثبت بات، اس میں کوئی ثابت شدہ مثال موجود ہو۔ ایسا ہرگز نہ ہو کہ بات تو کہہ دی جائے لیکن سننے والے کے سامنے کوئی متعین مثال نہ آئے جس کو لے کر وہ بات کی مزید تحقیق کر سکے۔ مثال کے بغیر ہر بات بے بنیاد بات ہے، اور بے بنیاد بات کبھی وہ بات نہیں ہو سکتی، جس کو کلام سدید کہا جائے۔

مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے کی تھی۔ اس وقت کعبہ ایک مستطیل (rectangle) عمارت کی شکل میں تھا، اور اب بھی بدستور وہی صورت قائم ہے۔ تو یہ بات کلام سدید کی مثال نہ ہوگی۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص جا کر اس کی تحقیق کرے تو وہ پائے گا کہ آج کا کعبہ مربع (Square) صورت میں ہے، اور اس کا ایک حصہ حطیم کی صورت میں خالی پڑا ہوا ہے۔ اس وقت کوئی شخص یہ کہے کہ ابتدائی کعبہ مستطیل صورت میں تھا، اب وہ مربع صورت میں ہے۔ اب اگر کوئی شخص مکہ جا کر اس کی تصدیق کرنا چاہے تو وہ دریافت کرلے گا کہ یہ بیان درست ہے۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کلام سدید کیا ہے، اور کلام غیر سدید کیا۔ کلام سدید وہ ہے، جو قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ اس کے برعکس، کلام غیر سدید وہ ہے، جس کو ویری فائی (verify) نہ کیا جا سکے، جس میں سامع کے لیے یہ ممکن نہ ہو کہ وہ کلام کی تحقیق کر کے یقین کے ساتھ یہ جان سکے کہ کہنے والے نے جو کہا یا لکھنے والے نے جو کچھ لکھا، وہ مطابق واقعہ کلام ہے یا مطابق واقعہ کلام نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page