Al-Risala · March 2023 · page 34

قلِ سدید یا متعین کلام

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۴

قلِ سدید یا متعین کلام

قرآن میں ایک تعلیم ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَيُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا (33: 70)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ کلام کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے سدید کلام ، دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ جس طرح تیر ٹھیک نشانہ کی طرف رخ کر کے چلایا جاتا ہے، اسی طرح سدید کلام ٹھیک حقیقت کو سامنے رکھ کر بولا جاتا ہے۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابق حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے ۔ وہ بات اصل حقیقت سے کچھ بھی ادھر یا اُدھر ہٹی ہوئی نہ ہو۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن و گمان پر قائم ہو۔ جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقت و واقعہ کے اظہار کی۔ آدمی کوئی بھی بات کہے، تو وہ بات تعین کی زبان (specific language) میں ہونی چاہیے۔

مثلاً اگر ایک شخص یہ کہتا ہے کہ صحابہ کے دور میں جنگ صفین اور جنگ جمل کا واقعہ جو پیش آیا، وہ اسلام دشمنوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔ تو یہ بیان، سدید بیان نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے کہ اس میں متعین نہیں ہے کہ اسلام دشمن کون ہے، اور اس کی سازش کیا تھی، جو اس حد تک مؤثر ہوئی کہ اس وقت کے لوگ دو متحارب گروہ بن کر آپس میں لڑ گئے۔ یعنی اس میں تعین اور صراحت کی زبان استعمال نہیں کی گئی ہے۔ اس میں ثابت شدہ حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ بیان تمام تر فرضی قیاس پر مبنی ہے، نہ کہ پختہ علم پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اَللّٰھُمَّ سَدِّدْ لِسَانِی (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3830)۔ اے اللہ، میری زبان کو قولِ سدید کی توفیق دے۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ قولِ سدید کی اسلام میں کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام کے آدابِ کلام میں یہ بات لازمی طور پر شامل ہے کہ کسی امر کے متعلق جو بات کہی جائے، وہ تعین کی زبان میں ہو۔ وہ مناسب الفاظ (appropriate words) میں کہی گئی ہو۔ وہ بیان ایسے الفاظ میں ہو کہ کوئی شخص اگر اس کی تحقیق کرنا چاہے تو وہ بآسانی تحقیق کر کے اس کی صحت کو معلوم کر سکے۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے والے نے کہہ دیا، لیکن سننے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page