Turmoil یعنی پریشانی
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸
ڈائری 1986
آج تبلیغی جماعت کے کئی لوگ ملنے کے لیے آئے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ سوچنے کے دو انداز ہیں۔ ایک ہے خارجی انداز فکر اور دوسرا ہے داخلی انداز فکر۔ خارجی انداز فکر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھیں ۔ مثلاً دوسروں کا تعصب، دوسروں کی سازش، دوسروں کی جارحیت وغیرہ۔ جو لوگ اس طرح سوچیں ان کے لیے کام اپنے آپ سے باہر رہے گا۔ وہ دوسروں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ وہ دوسروں سے مطالبات کریں گے۔ چونکہ ان کے نزدیک مسئلہ اپنے آپ سے باہر پیدا ہوا ہے، اس لیے وہ باہر سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں داخلی انداز فکر کا مطلب اپنے مسائل کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔ اس دوسری صورت میں سارا معاملہ بدل جاتا ہے۔ اب آپ کی ساری توجہ خود اپنی طرف لگ جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس وقت جتنی بھی تحریکیں مسلمانوں میں چل رہی ہیں وہ سب خارجی انداز فکر پر چل رہی ہیں۔ سب کی سب دوسروں کے خلاف مہم چلانے میں مصروف ہیں۔
اس عموم میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ تبلیغی جماعت کا ہے۔ تبلیغی جماعت کا فکر یہ ہے کہ ہمارے تمام مسائل اللہ کے باب میں اپنی کوتاہی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اپنی کوتاہی کو درست کرلو تو خدا کی رحمت تمہاری طرف مائل ہوگی اور تمہارے تمام معاملات درست ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہی داخلی انداز فکر صحیح ہے۔ اس اعتبار سے ہمارا مشن اور تبلیغ کا مشن ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تبلیغ کے لوگ تقریر کی راہ سے کام کر رہے ہیں اور ہم تحریر کی راہ سے۔
آج میں نے ریڈرس ڈائجسٹ (فروری 1986) پڑھا۔ ریڈرس ڈائجسٹ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ خالی جگہوں پر چھوٹی چھوٹی عبارتیں شائع کرتا ہے جس کو آج کل کی زبان میں فلر (filler) کہتے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues