Al-Risala · March 2023 · page 39

Turmoil یعنی پریشانی

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۳۹

ہیں۔ یہ عبارتیں بڑی بڑی قیمتیں دے کر لوگوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔

ریڈرس ڈائجسٹ کے مذکورہ شمارہ میں صفحہ 152 پر دو لائن کا ایک فقرہ حسب ذیل ہے: Headline of an article on a controversial press censorship bill — "THE RIGHT TO WRITE."

اس سرخی کا اردو ترجمہ کریں تو وہ یہ ہوگا ”لکھنے کا حق“۔ اردو سرخی میں بظاہر کوئی ایسی خصوصیت نظر نہیں آتی کہ ایک میگزین اس کو قیمت دے کر کسی سے خریدے اور اس کو اپنے ایک صفحہ میں بطور فقر استعمال کرے۔ مگر انگریزی میں دیکھیے تو وہ ایک بے حد دلچسپ سرخی معلوم ہوتی ہے۔ انگریزی الفاظ میں یہ سرخی اس قدر اچھوتی ہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر فوراً اصل موضوع کو پڑھنا چاہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اردو زبان کوئی کمتر زبان ہے اور انگریزی زبان ایک برتر زبان۔ یہ فرق تمام تر اتفاقی ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک اور سرخی اردو زبان میں بہت با معنی نظر آئے مگر انگریزی میں ترجمہ ہو کر وہ اپنی ندرت کو کھو دے۔

یہی معاملہ ہر چیز کا ہے۔ بعض خصوصیات حقیقی ہوتی ہیں اور بعض خصوصیات اتفاقی۔ کسی چیز کے بارے میں صحیح رائے وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جو حقیقی اور اتفاقی کے فرق کو اچھی طرح جانتے ہوں۔ 13 فروری 1986 آج کل دہلی میں عالمی کتابی نمائش (ورلڈ بک فیئر) ہو رہی ہے۔ آج میں نے اس کو دیکھا۔ مختلف ملکوں کے اسٹال بہت بڑے پیمانے پر لگائے گئے ہیں۔ آدمی یہاں پندرہ زبانوں میں کتابیں حاصل کر سکتا ہے۔ ایک حصہ میں مختلف مذہبی مشن کے اسٹال لگے ہوئے ہیں۔ ایک ہندو مشن کے اسٹال پر ایک کتاب نظر سے گزری۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا:

“Bhagvad Gita: As It Is”

یہ ٹائٹل مجھے بہت پسند آیا۔ میں نے سوچا اسی انداز پر ایک کتاب اسلام کے بارے میں چھپنا چاہیے۔ اس کا ٹائٹل حسب ذیل ہو:

“Islam: As It Is”

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page