Al-Risala · March 2023 · page 43

اولاد کی تربیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۴۳

اولاد کی تربیت

جناب خورشید اکرم سوز (پیدائش 1965ء) ایک سنجیدہ اور دینی ذہن رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ ایک طویل مدت سے الرسالہ کے قاری ہیں۔ مولانا سے کئی مرتبہ ان کی ملاقات اور خط و کتابت رہی ہے۔ فروری 2002 کی بات ہے۔ انھوں نے خط کے ذریعے مولانا کو بتایا تھا کہ ”میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ میں اپنے بیٹے کو مدرسہ کی تعلیم دینا چاہتا ہوں، اور دین کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں ۔ اس سلسلے میں آپ سے مشورہ درکار ہے۔ “ مولانا نے جوابی خط میں جو بات لکھی، وہ ہر ایک والدين کے لیے ایک رہنما نصیحت ہے۔ مولانا نے لکھا تھا کہ ”خالق کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، آپ صرف اپنے بچے کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں، مگر آپ اپنے جذبات کو اپنے بچے پر نافذ نہیں کر سکتے۔ آپ کی زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے اور بچے کی زندگی کا مالک خدا ہے۔ بچہ، مال اور جائیداد کی طرح وقف کرنے کی چیز نہیں ہے۔ وہ خود اپنی آزادی سے اپنا فیصلہ کرے گا جب وہ ہوش سنبھالے گا۔ اس وقت تک آپ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام فرمائیں اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی اچھے ادارے کا انتخاب فرمائیں“۔ عام طور پر والدین اس فطری حقیقت کو نہیں سمجھتے ہیں۔ انس بن مالک کے حوالے سے ایک حدیث رسول یہ ہے: أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 3671)۔ یعنی اپنی اولاد کے ساتھ بہتر سلوک کرو، اور ان کو اچھا ادب سکھاؤ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کو زندگی کا بہتر طریقہ سکھائے۔ یعنی یہ سکھانا کہ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں، وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کے لیے بوجھ (liability) نہ بنیں، بلکہ وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset) بن جائیں۔ تربیت اولاد کے تعلق سے انگریزی کا ایک قول ہے: “Parents can only give good advice or put them on the right path, but the final shaping of a person’s character lies in their own hands.”

یعنی والدین اپنے بچوں کو اچھی نصیحت کر سکتے ہیں، یا درست راستے کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں، لیکن انسانی شخصیت کی فائنل تشکیل خود انسان کے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page