حقيقي مومن
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۴۲
تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سے وزیروں اور چیف منسٹروں کو دیکھا ہے مگر جو قوت اخذ (grasp) میں نے انتولے صاحب میں دیکھا وہ کسی کے اندر نہیں پایا۔ (جناب عبدالرحمن انتولے کا 2 دسمبر 2014 کو انتقال ہو چکا ہے)۔
مسٹر پریم نارائن گپتا آج مولانا حمید اللہ ندوی کے ساتھ بھوپال سے دہلی آئے۔ انہوں نے آتے ہی کہا: آج میں ایک سچے انسان سے ملنے کی خوشی حاصل کر رہا ہوں۔ وہ الرسالہ اردو اور انگریزی پابندی سے پڑھ رہے ہیں اور بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم مسائل پر آپ جس طرح لکھتے ہیں، اس کو مسلمان کیسے برداشت کرتے ہیں؟ اور آپ کو اس طرح لکھنے کی جرات کیسے ہوتی ہے؟ میں نے کہا کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں دلیل سے لکھتا ہوں اور جو شخص دلیل پکڑا ہوا ہو اس کی کاٹ کسی کے لیے ممکن نہیں۔ انہوں نے میری کتاب "پیغمبر انقلاب" اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب "خطبات مدراس" حال میں پڑھی ہے۔ خطبات مدراس ان کو پسند نہیں آئی۔ کیوں کہ اس میں پیغمبر اسلام کو اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا کہ وہ مسلمانوں کے قومی ہیرو ہیں۔ اس کے برعکس، میری کتاب میں رسول اللہ ایک حقیقی عالمی پیغمبر کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ گپتا صاحب کو میں نے دو کتابیں بطور ہدیہ دیں: ایک "اللہ اکبر" اور دوسری "حل یہاں ہے"۔
حقيقي مومن
موجودہ دنیا میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ آدمی نے بظاہر کس حال میں زندگی گزاری، اچھے حال میں یا برے حال میں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی جس حال میں بھی ہو اس سے وہ تعلق باللہ کی غذا لے سکے۔ زندگی کا ہر تجربہ اُس کو اللہ سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔ اُس کی روح ہر صورت حال سے ربانی غذا لیتی رہے۔ کائنات کے ہر مشاہدہ میں وہ اللہ کا جلوہ دیکھ سکے۔ زندگی کا ہر خوش گوار تجربہ اُس کو اللہ کی رحمت کی یاد دلائے، اور زندگی کا ہر تلخ تجربہ اُس کے لیے تقویٰ کا سبب بنتا رہے۔ ناکامی بھی اُس کو خدا کی یاد دلائے اور کامیابی بھی اُس کو خدا سے قریب کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues