Al-Risala · July 2023 · page 4

قربانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۴

قربانی

درخت کیا ہے۔ ایک بیچ کی قربانی۔ ایک بیج جب اپنے کو فنا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک سر سبز و شاداب درخت زمین پر کھڑا ہو۔ اینٹوں سے اگر آپ پوچھیں کہ مکان کس طرح بنتا ہے تو وہ زبان حال سے کہیں گی کہ کچھ اینٹیں جب اس بات کے لیے تیار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے زمین میں دفن کر دیں، اس کے بعد وہ چیز ابھرتی ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔

یہی حال انسانی سماج کی تعمیر کا ہے۔ انسانیت کے مستقبل کی تعمیر اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اپنے کو بے مستقبل دیکھنے پر راضی ہو جائیں۔ ملت کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ شعوری فیصلہ کے تحت اپنے آپ کو بے ترقی کر لیں۔ قربانی کے ذریعہ تعمیر، یہ قدرت کا ایک عالمگیر قانون ہے۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ قدرت کا یہی اصول مادی دنیا کے لیے بھی ہے اور قدرت کا یہی اصول انسانی دنیا کے لیے بھی۔

عمارت میں ایک اس کا گنبد ہوتا ہے، اور ایک اس کی بنیاد۔ گنبد ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے، مگر بنیاد کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ کیوں کہ وہ زمین کے اندر دفن رہتی ہے۔ مگر یہی نہ دکھائی دینے والی بنیاد ہے، جس پر پوری عمارت اور اس کا گنبد کھڑا ہوتا ہے۔ قومی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی قومی تعمیر میں اس کی بنیاد بننے پر راضی ہو جائے۔

قربانی یہ نہیں ہے کہ آدمی جوش میں آ کر لڑ جائے اور اپنی جان دے دے۔ قربانی یہ ہے کہ آدمی ایک نتیجہ خیز عمل کے غیر مشہور حصہ میں اپنے کو دفن کر دے۔ وہ ایسے کام میں اپنی کوشش صرف کرے جس میں دولت یا شہرت کی شکل میں کوئی قیمت ملنے والی نہ ہو۔ جو مستقبل کے لیے عمل کرے، نہ کہ حال کے لیے۔ کسی قوم کی ترقی اور کامیابی کا انحصار ہمیشہ اسی قسم کے افراد پر ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قوم کے مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔ وہ اپنے کو دفن کر کے قوم کے لیے زندگی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ دین کے اعتبار سے قربانی کا مقصد ہے- اپنے وجود کے حیوانی حصہ کو قربان کرنا، اور اپنے وجود کے ربانی حصہ کو جنت کی ابدی دنیا کے لیے زندہ کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page