حج کا سبق
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۵
حج کا سبق
قرآن میں اسلام کے ایک رکن حج کا بیان ہے۔ اس کے تحت ایک بات یہ بیان کی گئی ہے: لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ (22:28) یعنی تاتاکہ وہ اپنے فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں: So that they may witness its benefit for them. تفاسیر میں منافع کا مختلف مطلب بیان کیا گیا ہے: التجارة، منافع الآخرة، منافع الدارين، مناسک، مغفرت، خیر و برکت، وغیرہ۔ اس کا ایک اور معنی بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے زندگی کے مختلف میدانوں میں کام آنے والے مفید طریقے کا مشاہدہ کریں۔
مکہ میں وہ مفید طریقہ کیا ہے۔ رسول اللہ نے جب مکہ فتح کیا تو اس وقت کعبہ ابراہیمی تعمیر کے بجائے مشرکین مکہ کی بنیاد پر قائم تھا۔ سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کعبہ کی عمارت میں مشرکین کی تعمیر کو باقی رکھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1507)۔ اور یہ عمارت آج تک اسی طرح حطیم اور کعبہ کی چو کور عمارت کی شکل میں قائم ہے۔ اس طریق کار کو موجودہ دور کی اصطلاح میں پریکٹیکل وزڈم کہا جا سکتا ہے، یعنی کوئی چیز عملی طور پر ناممکن ہو تو اس کو ترک کر کے ممکن طرزِ عمل کو اختیار کرنا: If some principle is not practical or workable, it should be modified as per the situation's circumstances. یہ صرف حج یا کعبہ کی بات نہیں ہے۔ یہ زندگی کا اصول ہے۔ مثلاً اکثر عورت و مرد شادی کے معاملے میں معیار پسند ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسا زوج ملے جو ان کا آئیڈیل ہو۔ مگر اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اگر ایک اعتبار سے آئیڈیل ہوگا تو دوسرے اعتبار سے وہ مس میچ ہوگا۔ اس مسئلے کا حل امریکن رائٹر مز سائن ایلکیز (Simone Elkeles, b. 1970) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہم سب مس میچ جوڑے ہیں، جو حقیقت میں ایڈجسٹ کرتے ہیں:
We're all a bunch of mismatched couples — that keep adjusting to the situation. زندگی کے ہر معاملے میں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز جزئی اعتبار سے ہمارے مطابق ہوتی ہے، لیکن کچھ دوسرے پہلوؤں سے وہ ناموافق ہوتی۔ ایسے موقع پر پریکٹیکل وزڈم یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کے ساتھ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ایڈجسٹمنٹ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues