فطری تربیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۳
فطری تربیت
راقم الحروف کی زندگی کو پڑھنے کے بعد ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ "آپ کی اکثر عادتیں خدائی عطیہ (God gifted) ہیں، یا آپ نے نیچر سے یہ سیکھا ہے"۔
میرا تجربہ یہ ہے کہ میں کبھی مروجہ سوسائٹی سے زیادہ قریب نہیں ہوا۔ چنانچہ اپنے بارے میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ:
I am a man with difference اور یہ کہ:
I am a self-made man
مجھے یاد آتا ہے کہ میں گاؤں میں رہتا تھا۔ لیکن میں نے گاؤں والوں کی کوئی عادت نہیں سیکھی۔ مثلاً میرے بچپن کا واقعہ ہے۔ میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا۔ اسی وقت ایک لڑکا مجھے گالی کے الفاظ بولتا ہوا چلا گیا۔ اس کو سن کر میرے اندر کوئی ردِّ عمل پیدا نہیں ہوا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تم خود۔ اور یہ کہتے ہوئے میں گھر کے اندر چلا گیا۔ اسی طرح ایک واقعہ یہ ہے کہ میرے پڑوس میں ایک صاحب رہتے تھے۔ ان کے یہاں ایک بار چوری ہوگئی۔ چور گھر کا باکس کھول کر زیور نکال لے گیا۔ یہ بات اس وقت کی ہے، جب میں چھوٹا تھا، اور پڑوسی کے گھر آیا جایا کرتا تھا۔ چنانچہ پڑوسی کی خاتون نے چوری کا الزام میرے اوپر لگا دیا۔ یہ بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ مجھے پڑوسی کی بات پر غصہ نہیں آیا۔ بلکہ ہنس کر اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو بالکل مضحکہ خیز بات ہے۔ ان لوگوں نے مجھ پر ایک ایسی بات کا الزام لگایا ہے، جو کبھی میں نے نہیں کیا ہے۔ یہ میری عادت کا معاملہ تھا۔ اپنی اس عادت کی بنا پر میں آس پاس کے لوگوں کی باتوں سے کبھی متاثر نہیں ہوا۔ میری یہ عادت ہمیشہ جاری رہی۔ اس بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری فطرت ہمیشہ انٹیکٹ (intact) رہی۔ میں نے کبھی گاؤں کے ماحول کا اثر قبول نہیں کیا۔ میں ہمیشہ فطرت پر قائم رہا۔ اور فطرت بلا شبہ انسان کو سچائی کی طرف گائیڈ کرتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues