Al-Risala · July 2023 · page 14

ایک خطرناک صفت

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۴

ایک خطرناک صفت

انسان کو استثنائی طور پر یہ صفت دی گئی ہے کہ اس کو ہر چیز میں ایک لذت (taste) کا احساس ہوتا ہے۔ اس لذت کو ابتدائی درجے میں رکھا جائے تو فطرت کے عین مطابق ہوگا، اور اگر اس لذت کو لامحدود طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے ہر قسم کی برائیاں وجود میں آئیں گی۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز جب آدمی کی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو ابتداء وہ صرف لذت (taste) کے درجے میں ہوتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ عادت (habit) کی صورت اختیار کرتی ہے۔ پھر مزید ترقی کر کے وہ ایڈکشن (addiction) بن جاتی ہے۔ اس کے بعد جو اگلا مرحلہ آتا ہے، وہ ہے پوائنٹ آف نور یٹرن (point of no return)۔ جب یہ آخری مرحلہ آجائے تو آدمی کی اصلاح عملاً ناممکن ہو جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن میں تو بہ قریب (4:17) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جب اس سے کوئی خطا سرزد ہو تو وہ بلا تاخیر تو بہ قریب (speedy repentance) کا طریقہ اختیار کرے، وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے، اپنے آپ کو بدلے، اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر نو کرے۔

غلطی کرنے کے بعد آدمی کو چاہیے کہ وہ کل کا انتظار نہ کرے، بلکہ وہ آج ہی پہلی فرصت میں اس کی تلافی کرے ۔ فطرت کے قانون کے مطابق یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے۔

آدمی کو کبھی بھی تو بہ بعید کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ غلطی کے پیچھے ہمیشہ کوئی لذت شامل رہتی ہے، مادی لذت یا ذہنی لذت۔ اگر آدمی غلطی کے بعد فوراً اس کی اصلاح نہ کرے تو اس کے بعد اس کے اندر اس لذت پسندی کی بنا پر ایک نفسیاتی عمل شروع ہو جائے گا۔ لذت دھیرے دھیرے عادت بنے گی، اس کے بعد وہ ایڈکشن (addiction) بن جائے گی، اور پھر وہ وقت آجائے گا، جب کہ آدمی کے لیے ابتدائی حالت کی طرف واپسی ناممکن ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page