ڈبل اسٹینڈرڈ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۵
ڈبل اسٹینڈرڈ
یہ ایکسپریس ٹرین کا فرسٹ کلاس تھا۔ ایک مرد اور عورت اپنے بچے کے ساتھ کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے۔ وہاں پہلے سے ایک آدمی تھا، جو سگریٹ پی رہا تھا۔ مرد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے انگریزی میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ کمپارٹمنٹ کے اندر سگریٹ پینے کی اجازت نہیں: I think smoking is not allowed inside the compartment اس کے بعد میاں بیوی دونوں ایک طرف بیٹھ گئے اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ بچے سے مل کر زور زور سے باتیں کرنے اور قہقہہ لگانے میں مشغول ہو گئے۔ ان کے نزدیک کمپارٹمنٹ کے اندر" دھواں" کرنا نا جائز تھا، مگر اسی کمپارٹمنٹ کے اندر شور کرنا ان کے نزدیک عین درست تھا۔ یہی آج کل تمام انسانوں کا حال ہے۔ ایک آدمی اتفاق سے جس چیز کا عادی نہیں ہے یا جو چیز اتفاق سے اس کی عادت میں شامل نہیں ہوئی ہے، اس کا برا ہونا اس کو معلوم ہے۔ وہ کسی شخص کو اس میں مشغول دیکھتا ہے تو بہت زور و شور کے ساتھ اس کے غلط ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ مگر اسی درجہ کی دوسری برائی جس میں وہ آدمی خود مبتلا ہے، وہ اس کو نظر نہیں آتی، حتی کہ اس کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ غلط ہے۔ وہ دوسرے کی برائی کا خوب ذکر کرتا ہے مگر وہ اپنی برائی کے بارے میں خاموش رہتا ہے۔ برائی کی ایک قسم اور ہے جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ اور وہ ہے ــ خود را فضیحت دیگر اں را نصیحت۔ یعنی دوسروں کو برا کہنا اور خود اُسی برائی میں مبتلا ہونا۔ ایک آدمی دوسرے کو دُورُخا (double standard) ہونے کا الزام دے گا، حالاں کہ وہ خود دُورُخا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کی اقربا نوازی کے خلاف جھنڈا اٹھائے گا، حالاں کہ اپنے دائرہ میں وہ خود اقربا نوازی کر رہا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کو اتحاد دشمن بتائے گا، حالاں کہ وہ خود اتحاد دشمنی کے عمل میں مبتلا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کی مصلحت پرستی کا انکشاف کرے گا، حالاں کہ وہ اپنے مفاد کے معاملہ میں خود بھی مصلحت پرست بنا ہوا ہوگا۔ لوگ تضاد میں جی رہے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خدا کی دنیا ہے۔ اور خدا کی بے تضاد دنیا میں تضاد کارویہ اتنا بڑا جرم ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues