Al-Risala · July 2023 · page 17

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۷

دعوت کے حدود

قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو (88:21-22)۔ اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ تم لوگوں کے اوپر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے پیغام کو سننے کے لیے راضی ہو (50:45)۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی کام پر بھیجتے تو فرماتے : بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1732)۔ یعنی خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو۔ اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے، اس کو اجبار (زور زبردستی) کے دائرے میں داخل نہیں ہونا ہے۔ اس کے لیے یہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو استعمال کرے۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دین کے نام پر دھرنا یا احتجاج، وغیرہ کا راستہ اختیار کر کے عام لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2629)۔ مثال کے طور پر شتم رسول کو لیجیے۔ شتم رسول کا واقعہ پیش آنے پر مسلمانوں کا مروجہ احتجاجی رد عمل اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ پیغمبرِ اسلام کی سیرت اور ان کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔ ’’شتم رسول‘‘ کا واقعہ آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے پیغمبر کی تعلیمات کو پر امن انداز میں پیش کریں۔

لیکن اگر کچھ لوگ ’’اینٹی شتم رسول مہم‘‘ چلائیں۔ وہ شتم رسول کے خلاف سڑکوں پر دھرنا دیں، مفروضہ شاتم کا پتلا (effigy) بنا کر اس کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں، وغیرہ تو اس قسم کی مہم درست نہ ہوگی۔ یہ گویا ابلاغ کی حد کو پار کر کے اجبار کی حد میں داخل ہونا ہے۔ ایسا طریقہ عام انسانوں کو اللہ اور اس کے دین سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کی ’’اینٹی‘‘ مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب کاری ہے، نہ کہ دین کی خدمت۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page