Al-Risala · July 2023 · page 18

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۸

مطالعہ حدیث شرح مشکوٰۃ المصابیح معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کی بابت سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو۔ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو، انہوں نے کہا کہ اور کیا۔ اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو اور تم دوسروں کے لیے بھی اس چیز کو ناپسند کرو جس کو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22130)۔ افضل ایمان سے مراد اعلیٰ ایمان ہے۔ یہ اعلیٰ ایمان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی کا ایمان صرف لفظی اقرار کے ہم معنی نہ ہو۔ بلکہ وہ شعوری دریافت اور داخلی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہو۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کا آغاز کلمہ ایمان کے اقرار سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک اتنا ہی کافی نہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس لسانی سطح کے ایمان کو عقلی سطح کا ایمان بنائے۔ یہ گویا کلمہ گوئی کے بعد اس کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیلی ایمان کو قرآن میں داخل القلب ایمان (49:14) کہا گیا ہے۔ اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو وہ اپنے محبت ونفرت کے جذبات کو اپنی خواہش کے تابع کرنے کے بجائے وہ اس کو مکمل طور پر حق کے تابع کر دیتا ہے۔ اس کے اندر وہی روحانی اور اخلاقی صفات پیدا ہو جاتی ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالاں کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ اس نے کہا اس کے بعد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ پھر اللہ نے اس کی تصدیق میں قرآن کی یہ آیت

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page