Al-Risala · July 2023 · page 30

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۰

اس معاملے میں آدمی کو اتنا زیادہ چوکنارہنا چاہیے کہ پیدائش کے وقت اگر وہ بچہ کے چيخنے کی آواز سنے تو اس کو یاد آئے کہ اس دنیا میں انسان کو شیطان سے بچنے کے لیے کتنا زیادہ اہتمام کرنا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیدائش کے وقت بچے کی چیخ شیطان کی چھیڑ سے ہوتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2367)۔

یہ حدیث تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہے۔ اس حدیث کا رخ بچے سے زیادہ بڑوں کی طرف ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پیدائش کے وقت جب آدمی بچے کی چیخ کو سنے تو وہ شیطان کے معاملہ کو یاد کرے اور شیطان سے بچاؤ کے لیے مزید شدت کے ساتھ سرگرم ہو جائے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابلیس اپنا تخت پانی کے اوپر رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے دستوں کو بھیجتا ہے تا کہ وہ لوگوں کو فتنوں میں مبتلا کریں۔ پھر درجہ کے اعتبار سے شیطان کا سب سے زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جس نے سب سے زیادہ بڑا فتنہ برپا کیا ہو۔ ان میں سے ایک واپس آتا ہے اور شیطان سے کہتا ہے کہ میں نے ایسا کیا، میں نے ایسا کیا۔ تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو نہیں چھوڑا جب تک کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔ آپ نے فرمایا کہ شیطان اس کو اپنے قریب کرتا ہے۔ پھر وہ اس سے کہتا ہے کہ ہاں، تم ۔ اعمش (راوی) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ روایت کرنے والے نے یہ کہا تھا کہ "وہ اس کو اپنے سے چمٹا لیتا ہے" (صحیح مسلم، حدیث نمبر 67)۔

یہ حدیث بھی غالباً تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ ایک اسلوب کلام ہے جس کے ذریعے آدمی کو شیطانی فتنوں سے متنبہ کیا گیا ہے۔ جو شخص دو فرد یا دو گروہ کے درمیان تفریق ڈالے وہ گویا شیطان کا کام کر رہا ہے۔ اور جو لوگ تفریق میں مبتلا ہوں، انھیں جاننا چاہیے کہ وہ شیطان کی سب سے زیادہ تباہ کن سازش کا شکار ہو گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page