Al-Risala · July 2023 · page 29

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۹

اس حقیقت کو قرآن میں نفس امارہ (12:53) اور نفس لوامہ (75:2) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر آدمی کے اندر بیک وقت دو مختلف قوتیں موجود ہیں۔ ایک نفسانی قوت، جو ہر موقع پر آدمی کے اندر منفی نفسیات جگاتی ہے اور اس کو برے کام پر ابھارتی ہے۔ اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر ضمیر کی طاقت ہے جو ہر موقع پر اس کے اندر مثبت احساسات جگاتی ہے۔ آدمی اگر ایسا کرے کہ جب اس کے اندر نفسانی محرکات جاگیں تو وہ اپنی سوچ کو بھی اسی کے مطابق چلانے لگے ایسی حالت میں دھیرے دھیرے اس کا ذہن اس کے نفس کے تابع ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر وہ ضمیر کی آواز پر دھیان دے اور اپنے ذہن کو اس کے تابع بنائے تو اس کا ضمیر اس کا رہنما بن جائے گا جو ہر موقع پر اس کو خیر کا مشورہ دے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون اس کے اندر دوڑتا ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3281؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 23)۔

اس حدیث میں خون کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ شیطان کسی آدمی کے اندر کس طرح تیزی کے ساتھ اپنا عمل کرتا ہے۔ یہ معاملہ خدا نے انسان کے امتحان کے لیے کیا ہے۔ انسان کو شیطان کے ساتھ مسلسل فکری مقابلہ کرنا ہے۔ اسی فکری مقابلہ کے دوران یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون شخص اس دنیا میں حق پر قائم رہا اور کون حق کے راستے سے ہٹ گیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کے یہاں جب بھی کوئی بچہ ہوتا ہے شیطان اس کو ضرور چھوتا ہے۔ شیطان کے اسی چھونے کی وجہ سے پیدائش کے وقت بچہ چیختا ہے، سوا مریم اور ان کے فرزند کے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3431؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 146)۔

اس حدیث میں ایک فطری حقیقت کو تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی شیطان کی زد میں آ جاتا ہے اور پھر اپنی ساری عمر وہ اس کے زیر اثر رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page