Al-Risala · July 2023 · page 32

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۲

مسجد کے سلسلے میں احتجاج کا دن تھا۔ مسجد میں ایک صاحب تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے نہایت پر جوش انداز میں کہا کہ ہماری مسجدوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو سر بکف ہو کر نکل پڑنا چاہیے، مگر مجھے تعجب ہے کہ مسلمان بے حس بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسجد کے نمازیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ "یوم احتجاج" کی رعایت سے آج آپ نے اتنا بھی نہیں کیا کہ اپنے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ لیں۔ اتنے سارے مسلمان یہاں جمع ہیں مگر کوئی کالی پٹی باندھے ہوئے نظر نہیں آتا۔ آپ لوگوں کی غیرت آخر کہاں چلی گئی۔

کلیم اللہ صاحب نے کہا کہ موصوف کی پر جوش تقریر کے بعد میں نے یہ جاننا چاہا کہ مقرر صاحب نے خود کالی پٹی باندھی ہے یا نہیں۔ میں نے بہت غور سے دیکھا، مگر ان کے ہاتھ پر یا جسم پر کہیں کالی پٹی نظر نہیں آئی۔

کلیم اللہ صاحب نے اپنے پاس بیٹھے ایک صاحب سے کہا کہ مقرر صاحب کے ہاتھ پر کالی پٹی تلاش کر رہا ہوں مگر کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ اس آدمی نے جواب دیا کہ وہ کالی پٹی کیا باندھیں گے وہ ہندوؤں کے خلاف تقریر کر رہے ہیں کہ انہوں نے بابری مسجد پر قبضہ کر لیا ہے اور خود یہ حال ہے کہ اسی سنہری مسجد کے ایک حصہ پر وہ قبضہ کیے ہوئے ہیں اور کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم لیڈروں کا یہی حال ہے۔ وہ جھوٹی تقریریں کرنے میں مشغول ہیں۔ وہ دوسروں سے ایسا مطالبہ کر رہے ہیں جس پر وہ خود عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف لیڈری کی دھوم مچی ہوئی ہے مگر کہیں بھی کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ 19 فروری 1986 الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ الرسالہ میں اسلامی مرکز کا جو خبر نامہ ہوتا ہے وہ میرے نزدیک اسلامی مرکز کا تعریف نامہ ہے۔ یہ اپنی تعریف آپ (self-praise) کے ہم معنی ہے۔ میں نے کہا کہ خبر نامہ میں جو باتیں درج ہوتی ہیں ان کو آپ حقیقی واقعہ سمجھتے ہیں یا فرضی خبر؟ انہوں نے کہا کہ میں ان کو حقیقی واقعہ سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جب یہ باتیں حقیقی واقعہ ہیں تو پھر ان کے ذکر کرنے پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟

پھر میں نے کہا کہ آپ کی تنقید کی وجہ وہ نہیں ہے جو آپ اپنے لفظوں میں ظاہر کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page