Al-Risala · July 2023 · page 35

22 فروری 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵

سامنے پیش کر سکیں۔ اسی قسم کی روش کی طرف صحابی رسول ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: سَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ (الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 789)۔ یعنی، عنقریب تمھارے بعد وہ زمانہ آئے گا، جب کہ سمجھ بوجھ رکھنے والے کم ہوں گے اور تقریر کرنے والے زیادہ۔

22 فروری 1986

ایک سخت تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ تھے—اس دنیا میں کبھی اپنے جائز حق سے دست بردار ہونا پڑتا ہے تا کہ اپنا حق زیادہ طاقت کے ساتھ ثابت کیا جا سکے۔ اس دنیا میں کبھی برائی کے آگے جھکنا پڑتا ہے تا کہ برائی کو ختم کرنے کے لیے راہ کھولی جا سکے۔ یہ دنیا صبر کا امتحان ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو مستقبل کی خاطر ماضی اور حال کو بھولنا پڑتا ہے ۔ یہاں آدمی کو چھوڑنا پڑتا ہے تا کہ وہ دوبارہ پانے والا بن سکے۔ یہاں رکنا پڑتا ہے تا کہ ازسرنو آگے بڑھنے کا راستہ کھلے۔ یہاں چپ ہونا پڑتا ہے تا کہ آدمی کو بولنے کے لیے الفاظ مل سکیں۔ یہ دنیا کھو کر پانے کی جگہ ہے۔ یہاں اعراض کر کے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ یہاں دینا پڑتا ہے تا کہ دوبارہ اضافے کے ساتھ وصول کیا جا سکے۔

23 فروری 1986

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (23 فروری 1986) میں ”بھگوان رجنیش“ پر ایک نوٹ چھپا ہے، جس کا عنوان ہے:

A Quiet Departure

رجنیش امریکا سے بھاگ کر ہندوستان آئے۔ پھر وہ کاٹھ مانڈو (نیپال) گئے۔ اس کے بعد وہ چپکے سے اٹلی کے لیے روانہ ہوگئے۔ اخبارنویس نے ان کے شاگردوں سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بہت زیادہ فکر نہیں، کیوں کہ ”بھگوان‘‘ ہم کو self realization کا سبق دیتے ہیں۔

We are not followers. The bhagwan has only been

helping in to be ourself. In their words, to free us from following anything.

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page