25 فروری 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۶
اچاریہ رجنیش کے ایک شاگرد نے کہا۔ حتیٰ کہ جب بھگوان مرجائیں گے تب بھی ہمیں کسی گرو کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہم نے ان کو ٹیپ اور ویڈیو ٹیپ پر ریکارڈ کر لیا ہے : Even when bhagwan is gone, we won't need any priests, for we have him on tapes and the video tapes. اچاریہ رجنیش کے خیالات سے قطع نظر ان کے شاگرد کا یہ جواب زمانہ کے فرق کو بتاتا ہے۔ قدیم زمانہ کی شخصیتوں میں پیغمبرِ اسلام کی شخصیت کے سوا، کسی بھی شخص کا کامل ریکارڈ محفوظ نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی آدمی کی آواز اور اس کی شخصیت اس طرح محفوظ کر لی جائے کہ کسی بھی وقت اس کو دہرایا جا سکے۔
25 فروری 1986
دوسری جنگِ عظیم تک جاپان کے اندر زبردست عسکری مزاج تھا۔ مگر دوسری جنگِ عظیم (اگست 1945ء) میں جب جاپان کو شکست ہوئی تو وہاں کے مفکرین نے فوراً جاپان کو دوسرا نعرہ دیا، جس کا نام تھا بر عکس طریقہ (reverse course) ۔ یہ برعکس طریقہ اتنا زبردست کامیاب ہوا کہ چالیس برس کے بعد جاپان کی تاریخ بدل گئی۔
میں نے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے سفر میں یہ ایک بے حد فیصلہ کن چیز ہے۔ زندگی کے سفر میں کبھی اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے رخ کو بالکل تبدیل کر دیا جائے۔ جنگ کرنے والا صلح کر لے۔ آگے بڑھنے والا پیچھے ہٹ جائے ۔ جواب تک بول رہا تھا وہ خاموشی اختیار کرلے۔ مذکورہ مسلمان نے یہ سن کر کہا کہ جاپان نے جو کچھ کیا اس کی مجبوری تھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جاپان اس کے سوا اور کیا کر سکتا تھا جو وہ کرتا۔ مذکورہ مسلمان کے یہ الفاظ گرامر کے لحاظ سے صحیح ہیں۔ مگر معنیٰ کے اعتبار سے وہ سراسر غلط ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر محاذ پر شکست ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ ریورس کورس کی تدبیر نہ اختیار کر سکے۔ مسلمان جہاں براہِ راست نہیں لڑ سکتے وہاں بالواسطہ لڑ رہے ہیں اور جہاں کسی قسم کی لڑائی ان کے لیے ممکن نہیں ہے، وہاں لفظی طوفان مچار ہے ہیں۔ یہ طریقہ جاپان بھی اختیار کر سکتا تھا، مگر اس نے نہیں کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues