28 فروری 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸
ڈاک سے رسالہ معارف (فروری 1986) ملا۔ اس میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کا ایک خط چھپا ہے۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں:
”گوٹن برگ برگ(فوت1468ھ) کوفن طباعت کا موجد مانا جاتا ہے۔ حال میں مجھے پتہ چلا کہ ویانا (آسٹریا) کے کتب خانہ عام میں ایک ٹکڑا قرآن مجید کا موجود ہے جو گوٹن برگ سے پانچ سو سال قبل سلجوقی دور میں (غالباً مصر میں) چھپا ہے۔ اور یہ تاریخ فرنگی محققوں نے بیان کی ہے۔ آسٹریا کو فوراً خط لکھ کر اس کا فوٹو منگایا۔ واقعی قابل دید اور قابل ذکر چیز ہے۔ میں اسے اپنے فرانسیسی مقالہ ”تاریخ خط عربی“ میں چھاپ رہا ہوں“ (5 جنوری 1986)۔
اس طرح کی کتنی چیزیں ہوں گی جو مسلم عہد میں پیدا ہوئیں مگر آج ان کا کہیں نشان نہیںملتا۔ مسلمانوں کو جب عروج حاصل ہوا تو انہوں نے کہیں بھی قوموں کے نشانات کو نہیں مٹایا۔ حتیٰ کہ انہوں نے یونان کے طریق علاج کو لیا تو اس کا نام ”یونانی علاج“ رکھا، اس کو اسلامی علاج نہیں کہا۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب دوسری قوموں کو غلبہ حاصل ہوا تو انہوں نے بے دردی کے ساتھ اسلامی آثار کو مٹایا۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع حق کے حامل ہوں ان کے اندر فیاضی کا مزاج ہوتا ہے اور جو لوگ ناحق پر ہوں وہ نسبتاً غیر فیاض ہوجاتے ہیں۔ حق پرست کو اس کی ضرورت محسوس نہیں رہتی کہ وہ دوسروں کو مٹا کر عظمت حاصل کرے۔ جبکہ غیر حق پرستوں کی نفسیات ہوتی ہے کہ دوسروں کو منظر سے ہٹائے بغیر انہیں عظمت حاصل نہیں ہوسکتی۔
28 فروری 1986
ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (لاہور) فروری 1980ء میں دہلی آئے اور ہمارے یہاں ٹھہرے ۔ میں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں اقبال کا اندازہ بہت غلط تھا۔ ان کا شعر ہے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues