Al-Risala · July 2023 · page 39

28 فروری 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۹

اگر اقبال کا یہ اندازہ صحیح ہوتا تو اب تک اس ’’مٹی‘‘ کو زرخیز ہو جانا چاہیے۔ کیوں کہ اقبال اور دوسرے اکابر پچھلے سو برس سے اس کو صرف نم ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس پر فیض کی موسلا دھار بارش بھی برسارہے ہیں، اس کے باوجود آج تک وہ زرخیز ثابت نہ ہوسکی۔ ڈاکٹر اسرار احمد اقبال کے بہت معتقد ہیں۔ انہوں نے اقبال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے یہ بھی تو کہا ہے:

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف عقیدت مندی حقیقت سے کس قدر بے خبر رہتی ہے، اس کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے۔ اگر اقبال کے پہلے شعر کو لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اقبال اپنی قوم کا صحیح اندازہ نہ کر سکے۔ اور اگر ان کے دونوں شعر بیک وقت لیے جائیں تو ان کی شخصیت اور زیادہ مجروح ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال تضاد بیانی کے شکار تھے۔ کبھی کچھ کہتے تھے اور کبھی کچھ۔ جو کلام اقبال کی تضاد فکری کو ثابت کر رہا تھا وہ عقیدت مند کے نزدیک ان کے مشکل ہونے کا ثبوت بن گیا۔ مگر عقیدت کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ جب مسلم قوم کو زرخیز ثابت کرنا چاہے گا تو وہ اقبال کا پہلا شعر پڑھ دے گا۔ اور جب مسلم قوم کو بے گوہر بتانے کی ضرورت ہوگی تو وہ دوسرا شعر پڑھ دے گا۔ حکیم اور مفکر کی تعریف علم کی دنیا میں کچھ اور ہے اور عقیدت مندی کی دنیا میں کچھ اور۔ 1 مارچ، 1986ء ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اسلام کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اسلام کا خلاصہ کیا ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ submission۔ میں نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح جواب دیا۔ اب اس کی تفصیل بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر معاملے میں اور ہر شعبہ میں submission، یہی کامل اسلام ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے شروع میں صحیح جواب دیا، مگر اس کے بعد آپ منحرف ہو گئے۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام کی اصل submission ہے، مگر اس سے مراد آپ کا اپنا submission ہے، نہ کہ سیاست اور نظام کا submission۔ اسلام کا اصل مخاطب فرد ہے۔ فرد کو submissive بنانا اصل کام ہے۔ مگر آپ کی تشریح نے اسلام کو دین کے بجائے سیاست بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page