پیغمبر اسلام کا نمونہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۴۷
دعت کا کام کیسے کریں؟
(مسٹر شاہ خالد سی پی ایس مشن کے ایک نوجوان ممبر ہیں۔ انھوں نے روز مرہ کے دعوتی تجربات کی روشنی میں عام لوگوں کے لیے ایک مفید مضمون لکھا ہے۔ یہ گویا اس مہینہ کا خبر نامہ ہے۔ امید ہے کہ اللہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ دعوت دین کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ )
سی پی ایس مشن سے وابستہ افراد کے سامنے ہمیشہ دو چیزیں رہتی ہیں۔ پہلے کا تعلق تزکیہ نفس سے ہے۔ یعنی کیسے وہ اپنے وجود کی فکری یا روحانی تطہیر کریں؟ کیسے وہ خود کوڈسٹریکشن سے بچائیں اور کیسے اپنے لیے از دیاد ایمان کا سامان کر سکیں؟ ایک ربانی انسان اس معاملے میں انتہائی حساس ہوتا ہے اور یہ اس کا ہمہ وقتی وظیفہ بن جاتا ہے کہ وہ بار بار اپنا محاسبہ کرے، بار بار رجوع الی اللہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے عجز و کامل کا اعتراف کرے ۔
اس کے مقابلے میں دوسری چیز کا تعلق دعوت دین سے ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کر لیتا ہے تو یہ اس کے لیے کسی ذاتی تجربے کے ہم معنی بن جاتا ہے اور وہ بے تابانہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جو چیز اس نے پائی ہے دوسرے لوگ بھی اس کو پا سکیں۔ جس درجے میں انسان معرفت خداوندی پاتا ہے اسی درجے میں اس کے اوپر یہ ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے کہ وہ سچائی سے دوسرے لوگوں کو آگاہ کرے۔ یہ داعی کا اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ محبت کا عملی ظہور ہوتا ہے۔ یعنی جو سچائی اس کی زندگی میں ربانی انقلاب کا سبب بنی ہے، اس کو وہ دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔
لیکن اب ایک عام آدمی کی حیثیت سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دعوت کا کام کیسے کریں؟ کیوں کہ جہاں تک خواص کا تعلق ہے وہ تو اپنے دینی علم کی روشنی میں مختلف طریقوں سے یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک عام مسلمان۔ خواہ وہ طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ یا تجارت پیشہ ، وغیرہ۔ اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ کیسے دعوت کا کام کرے؟
میرے خیال میں عام مسلمانوں کے لیے دعوتی کام کے درج ذیل طریقے ہو سکتے ہیں۔ وہ ان طریقوں کو اپنا کر اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو متاثر کیے بغیر دعوت کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ 1۔ واٹس ایپ گروپ بنانا: آج کل واٹس ایپ ہر کسی کے موبائل فون میں ہوتا ہے۔ آدمی اپنے سرکل میں (اہل و عیال، فیملی ممبرز، کالج یونیورسٹی فیلوز، کلیگز اور دیگر ملنے جلنے والے، وغیرہ) جن کو وہ seeker سمجھتا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues