جنت کا استحقاق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۷
شخصیت پاک وصاف ہوکر مزکی شخصیت میں بدل جائے۔
جنتی انسان وہ انسان ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کر رہے۔ جو اندھیروں کے درمیان روشنی کا مینار بن سکے ۔ جوزلزلوں اور طوفانوں کے درمیان سکون کا راز پالے۔ جو نفرتوں کے درمیان محبت کا ثبوت دے۔ جو لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ طور پرانہیں معاف کردے۔ جوکھونے میں بھی پانے کا تجربہ کرے۔
جنتی انسان وہ ہے جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی خدا سے قریب ہو گیا ہو۔ جو سورج کی شعاعوں میں خدا کے نور کو دیکھے۔ جو ہواؤں کے جھونکے میں لمس ربانی کا تجربہ کرے۔ جو پہاڑوں کی بلندی میں خدا کی عظمت کا تعارف حاصل کرسکے۔ جو دریاؤں کی روانی میں خدا کی رحمت کا مشاہدہ کرے۔ جو مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ بتادیا ہے کہ جنتی انسان کی صفات کیا ہوتی ہیں۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے اندر جنتی صفات پیدا کریں، وہ موت کے بعد جنت میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں گے۔ جنت وہ معیاری دنیا (ideal world) ہے، جہاں پوری انسانی تاریخ کے مزکی افراد آباد کیے جائیں گے۔ یعنی وہ لوگ جو غفلت کی زندگی کو ترک کرکے شعور کی زندگی کو اختیار کریں۔ جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کے حامل ہوں۔ جو اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائیں جو تقویٰ اور انسانی خیر خواہی سے روکنے والی ہیں۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کردیں۔ نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دیں۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اس کو اپنے اندر دفن کردیں۔
جنت میں داخلہ نہ کسی سفارش کی بنیاد پر ہوگا، نہ کسی کے ساتھ نسبت کی بنیاد پر اور نہ کسی پراسرار عملیات کی بنیاد پر۔ جنت میں داخلہ پوری طرح معلوم حقیقت پر مبنی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے قول و عمل کے اعتبار سے جنتی انسان بن کر رہے گا، وہ آخرت کی جنت میں داخلہ پائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues