جنت کا استحقاق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۶
جنت کا استحقاق
جنت بے حد عظیم نعمت ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2450)۔ وہ بے حد مہنگی قیمت پر کسی کو ملے گی۔ بہت تھوڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں۔ جنت میں داخلہ کا پہلا امتحان یہ ہے کہ آدمی معرفت کے درجہ میں اپنے رب کو پائے۔ افکار و خیالات کے جنگل میں وہ سچائی کو دریافت کرے۔ وہ نہ محسوس ہونے والی جنت کو محسوس کرے۔ وہ ظاہری ہنگاموں سے گزر کر آخرت کی دنیا کا مسافر بن جائے۔
اسی طرح جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے۔ خود پرست بننے کے تمام محرکات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سچا خدا پرست بن جائے ۔ کشش اور جاذبیت کے بے شمار مراکز سے منہ موڑ کر وہ ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوگا جو منفی حالات کے درمیان ہمیشہ مثبت ذہن پر قائم رہے۔ جو اپنے سینے میں اٹھنے والے حسد اور گھمنڈ اور انتقام جیسے جذبات کو دفن کر کے یک طرفہ طور پر لوگوں کے لیے شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جائے۔ جو ظلم اور بے انصافی کے مواقع کو پانے کے باوجود انہیں استعمال نہ کرے اور ہر حال میں اپنے آپ کو عدل و انصاف کا پابند بنا لے۔ جنت ایک نفیس ترین خدائی کالونی ہے۔ اس نفیس کالونی میں صرف وہی روحیں داخل ہوں گی جنھوں نے دنیا کی زندگی میں اپنے اوپر تطہیر کا عمل کر لیا تھا، یعنی تزکیہ کا عمل۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے : ہے:جَنَّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى (20:76)۔ یعنی، ان کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جو اپنا تزکیہ کرے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی حالت امتحان میں پیدا کیا جاتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذات کی تطہیر کا ایک مسلسل عمل شروع کرے۔ یہاں تک کہ اس کی آلودہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues