عظیم خوش خبری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۱
عظیم خوش خبری
یوسف بن یعقوب ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں۔ ان کی زندگی کی کہانی کو قرآن کی سورہ یوسف میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور اس کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کا ٹائٹل دیا گیا ہے، یعنی ایک بہترین سرگزشت (best story)۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ حضرت یوسف کی کہانی انسان کے لیے بہترین سبق والی کہانی ہے۔ اس کہانی کے سبق آموز پہلو کو راقم الحروف نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں کسی قدر تفصیل سے بیان کیا ہے۔
سورہ یوسف کے آخر میں اس احسن القصص کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡا أَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَاءَہُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَاءُ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ (12:110)۔ یعنی یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہو گئے اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آ پہنچی۔ پس نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ حد آجائے کہ بندے پر انتظار کی گھڑیاں شاق گزریں تو بلا تاخیر اللہ کی نصرت آ جاتی ہے۔ اللہ رب العالمین کی طرف سے یہ عظیم خوش خبری صرف پیغمبروں کے لیے نہیں ہے، صرف پیغمبر کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے، جو قرآن کی اس سورہ کا مطالعہ کریں، اور اس میں جو سبق (takeaway) ہے، اس کو دریافت کر کے اپنی زندگی میں اپنائیں۔ غالباً اس پیغمبرانہ قصے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اور نصرت اس کے سچے طالب کے اوپر ضرور آتی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ سچے طالب کی طرف نہ آئے۔ البتہ یہ شرط ہے کہ طالب کو چاہیے کہ وہ پورے یقین اور صبر کے ساتھ خدا کی نصرت کا انتظار کرے، وہ کسی بھی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہو، وہ ہر حال میں اللہ رب العالمین کی رحمت کا امیدوار بنا رہے۔ اللہ نے آغاز تخلیق میں یہ اعلان کر دیا تھا: اِنَّ رَحۡمَتِیۡ غَلَبَتۡ غَضَبِیۡ (صحیح البخاری)،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues