عظیم خوش خبری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۲
حدیث نمبر 3194)۔ یعنی بیشک میری رحمت میرے غضب کی اوپر غالب ہے۔
اللہ کی نصرت کا یہ قانون کیوں ہے کہ بندے کی دعا اس وقت قبول ہوتی ہے، جب کہ بندے کے اوپر مایوسی کی آخری حد آجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت تو یقینی طور پر بندے کے لیے اللہ کا عطا کیا ہوا ایک حق ہے، وہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے، کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری شکل میں۔ مثلاً پیغمبر سلیمان پر اللہ کی رحمت کسی شدید امتحان کے بغیر آئی۔ اس کے برعکس، کئی دوسرے پیغمبروں پر اللہ رب العالمین کی رحمت شدید امتحان کے بعد آئی۔ یہاں تک کہ اس وقت جب کہ پیغمبر اور ان کے ساتھی مایوسی کی حالت کو پہنچ گئے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر اچھی چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور اللہ کی رحمت سب سے زیادہ عظیم نعمت ہے۔ اس لیے اس کا استحقاق بھی عظیم قیمت کی ادائیگی کے بعد ہوتا ہے، اور وہ قیمت یہ ہے کہ بندے کو اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت پر اتنا زیادہ یقین ہو کہ شدید حالات کے باوجود وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، وہ آخری حد تک اللہ کی رحمت کا امید وار بنا رہے۔ مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مایوسی کی آخری حد پر پہنچنے کے بعد اللہ کی نصرت آتی ہے۔ اس مایوسی کا مطلب کیا ہے۔ اس میں دراصل اللہ کے قانونِ فطرت کو بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی نصرت داعی کو ضرور پہنچتی ہے۔ لیکن اس کا پر اس اس یہ ہے کہ دوسرے انسانوں کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک عمل جاری کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں داعی کو مطلوب نصرت کبھی تاخیر سے حاصل ہوتی ہے۔ خالق کی طرف سے اس عمل کی تکمیل میں ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ اس وقت کو وہ انتظار کے خانے میں ڈالے۔ یہ انتظار اگر مایوسی کی آخری حد تک پہنچ جائے، تب بھی داعی کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس کا رب اس کو تباہی سے بچائے گا، اور اپنے وقت پر وہ ضرور اپنی نصرت کو نازل فرمائے گا، جو داعی کے لیے منزل تک پہنچنے کا سبب بن جائے گا۔ صبر دراصل داعی کی طرف سے انتظار کی مدت کا نام ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنی امید کو برقرار رکھے۔ رب کی طرف سے نصرت کے نزول سے وہ مایوس نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues