جنت کا استحقاق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۹
فہمیں بنائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد جب امارت کا سوال پیدا ہوا تو صحابہ نے تقریباً اتفاق رائے سے حضرت ابوبکر صدیق کو اپنا خلیفہ چن لیا۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس نظیر کے باوجود خلیفہ اول نے اس معاملہ میں اجتہاد سے کام لیا۔ اپنے بعد خلیفہ دوم کے معاملہ کو انھوں نے عمومی انتخاب کے اوپر فہمیں چھوڑا۔ بلکہ صراحت کے ساتھ حضرت عمر فاروق کو اس منصب کے لیے نامزد فرمایا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ لوگوں کو حضرت عمر فاروق کے بارے میں ایک سخت قسم کی غلط فہمی تھی۔ حضرت عمر فاروق کے مزاج میں شدت تھی۔ لوگ حضرت عمر فاروق کے اخلاص اور قربانی کے معترف تھے۔ مگر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ ایک ایسا آدمی خلافت کے نازک منصب کے لیے موزوں نہیں جس کے اندر شدت اور تنقید کا مزاج پایا جائے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی اسی غلط نہی کی بنا پر خلیفہ اول کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے خود سے عمر فاروق کو نامزد نہیں کیا تو آپ کے بعد مسلمان شاید ان کو اپنا امیر بنانے پر اتفاق نہ کر سکیں گے اور اس طرح عین وہی شخص مسلمانوں کا امیر بننے سے رہ جائے گا جو اپنی خصوصی اہلیت کی بنا پر مسلمانوں کی پوری جماعت میں امیر یا خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔
مگر یہ غلط نہی سراسر بے بنیاد تھی۔ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ان انتہائی نادر انسانوں میں سے تھے جن کو تاریخ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ مگر اس غیر معمولی صفت کے باوجود بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ خلیفہ دوم کے منصب کے لیے لوگ ان کے نام پر متفق ہو جائیں گے۔ یہی اندیشہ تھا جس کی بنا پر خلیفہ اول کو اس معاملہ میں پیشگی نظیر کے باوجود اجتہاد کرنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عمر فاروق کو اپنے بعد خلافت کے لیے نامزد کر دیا۔ خلافت کے تعلق سے حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی یہ رائے درست نہ تھی۔ حضرت عمر فاروق بے اصول پسند انسان تھے۔ وہ حق کے معاملہ میں مصالحت کو گوارہ نہیں کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کے مزاج میں شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ جب بھی کسی کو کوئی غلط بات کہتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھتے تو وہ اس پر سخت تنبیہ و تنقید کرتے۔ وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس کے اعلان میں وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues