جنت کا استحقاق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۰
کبھی کسی کی رعایت فہمیں کرتے تھے۔ اس بنا پر لوگ ان سے دور رہنے لگے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا عمر پر رحم کرے، وہ حق کہتے ہیں اگرچہ وہ کڑوا ہو، ان کا سر مایہ حق ہے، اور ان کا کوئی دوست فہمیں (رَحِمَ اللّٰہُ عُمَرَ، يَقُوْلُ الْحَقَّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، تَرَکَہُ الْحَقَّ وَ مَالَہُ صَدِیْقٌ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3714۔
مگر حضرت عمر فاروق کی شدت صرف ناحق کے خلاف ہوتی تھی، نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔ وہ عین اس وقت بھی انسان کے خلاف نفرت سے خالی ہوتے جب کہ وہ اس کی تنبیہ کر رہے ہوتے تھے۔ ان کے دل میں عین اس وقت بھی انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا جب کہ بظاہر وہ اس کے خلاف غصہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ان کی ہر سختی میں ایک نرمی چھپی ہوتی تھی۔ ان کی ہر تنقید کے پیچھے محبت کا جذبہ کارفرما ہوتا تھا۔
عام لوگ اس نازک فرق کو نہ سمجھ سکے۔ اس لیے افہمیں حضرت عمر فاروق کے بارے میں سخت غلط فہمی پیداہوگئی تاہم جولوگ زیادہ باشعور تھے وہ اس راز کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان سے حضرت عمر کے بارے میں پوچھا تو حضرت عثمان نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے، اور ہمارے درمیان ان کے جیسا کوئی فہمیں ہے (سَرِیْرَتُہٗ خَیْرٌ مِنْ عَلَانِیَتِہٖ وَ اَنَّہٗ لَیْسَ فِیْنَا مِثْلُہٗ)۔ اسی طرح حضرت ابوبکر نے لوگوں کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمر پر جب خلافت کی ذمہ داری آئے گی تو وہ اپنے آپ نرم ہو جائیں گے (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 2، صفحہ 425)۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط نہی کتنی خطرناک چیز ہے۔ غلط نہی کی بنا پر آدمی ایک شخص کے بارے میں بالکل الٹی رائے قائم کرلیتا ہے۔ حالاں کہ وہ شخص اس غلط رائے سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ اس قسم کی منفی رائے غلط نہی میں مبتلا ہونے والے کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا میں سرے سے اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یہ غلط نہی بلاشبہ ایک سنگین قسم کا اخلاقی جرم ہے۔ ہر آدمی پر لازم ہے کہ اس جرم سے اپنے آپ کو بچائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues