تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۹
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے اپنے رب کے سامنے حجت کی تو آدم اس بحث میں موسیٰ پر غالب آگئے۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی۔ اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا۔ اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھهرايا۔ پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتار دیا۔ آدم نے کہا کہ آپ وہ موسیٰ ہیں جس کو اللہ نے اپنی پیغمبری کے لیے اور اپنی ہم کلامی کے لیے چنا۔ اور آپ کو تختیاں دیں، جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ اور آپ کو ہم کلامی کے ذریعے قربت دی ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے میری پیدائش سے کتنے عرصہ پہلے تو راۃ کو لکھ دیا تھا؟ موسیٰ نے کہا کہ چالیس سال پہلے۔ آدم نے کہا کہ کیا آپ نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پھر وہ راستہ سے دور ہوگئے (ط، 12:121)۔ موسیٰ نے کہا کہ ہاں۔ آدم نے کہا کہ کیا آپ مجھے ایک ایسے فعل کی ملامت کرتے ہیں، جو اللہ نے لکھ دیا تھا کہ میں اس کو کروں، اور یہ میری پیدائش سے چالیس سال پہلے ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آدم موسیٰ پر غالب آگئے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2652)۔
انسان آزاد ہے یا مجبور۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک تقدیر الہی، اور دوسرے ذاتی اختیار ۔ انسان ایک اعتبار سے آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر عورت اور مرد آزادانہ طور پر اپنا کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ بار بار محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ذات کے باہر بھی کچھ طاقتیں ہیں جن کو نظر انداز کر کے وہ اس دنیا میں اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہ دو طرفہ تقاضے کیا ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایک ہے خود انسان کی شخصیت، اور دوسری چیز ہے وہ حالات جن کے درمیان کسی آدمی کو اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو فطرت کا قائم کیا ہوا انفراسٹرکچر (infrastructure) کہا جاسکتا ہے۔ جہاں تک انسان کی ذات کا تعلق ہے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جو بات چاہے بولے، جس رخ پر چاہے اپنی زندگی کا سفر طے کرے ۔ اس اعتبار سے انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues