تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۸
برعکس، آدمی کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ مجھ سے معیاری عمل نہ ہوسکا۔ اپنے عمل کو کامل سمجھنا، منافقت کی علامت ہے، اور اپنے عمل کو ناقص سمجھنا اخلاص کی علامت۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مخلوق کی تقدیروں کو لکھ دیا ہے، زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت اللہ کا تخت پانی کے اوپر تھا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 16)۔
یہاں تقدیر سے مراد منصوبہ الہی ہے۔ خدا کی پیدا کی ہوئی زمین میں پہلے پانی کا دور آیا، اس کے بعد سطح زمین پر زندگی کا دور شروع ہوا۔ ہزاروں سال پہلے تقدیر کو لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے پیشگی طور پر اُس کورس کو متعین کر دیا جس کے تحت انسانی قافلے کو اپنا سفر کرنا تھا۔ اور اس فطری قانون کو طے فرما دیا جس کے دائرے میں ہر فرد کو اپنا عمل انجام دینا تھا۔ جدید سائنس کی روشنی میں جب ہم اِس معاملے پر غور کرتے ہیں تو تقدیر کا ایک اہم سراغ (clue) ڈی این اے (DNA) کی شکل میں ملتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان کا ڈی این اے اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت کی تمام خصوصیات کوڈ کی شکل میں درج ہیں، جن کی مسلسل طور پر ڈی کوڈنگ (de-coding) ہوتی رہتی ہے۔ آدمی کے بیشتر عادات و افعال اِسِی ڈی این اے کے زیر اثر واقع ہوتے ہیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز مقرر اندازہ پر ہے، یہاں تک کہ عاجزی اور دانش مندی بھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 18)۔
انسانوں کی صلاحیتیں یکساں نہیں۔ اس دنیا میں ہر انسان کو الگ الگ استعداد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ دنیا کے نظام کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایسے لوگ بھی درکار ہیں جو جسمانی طاقت میں زیادہ ہوں اور ایسے لوگ بھی جن کے اندر ذہنی طاقت زیادہ پائی جائے ۔ یہ مقدرات ہیں، اور وہ اس لیے ہیں تا کہ اس دنیا میں زندگی کا نظام مجموعی طور پر کامیابی کے ساتھ چلتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues