تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۱
نطفہ کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک علقہ کی صورت میں رہتا ہے ۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک گوشت کے ٹکڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتا ہے۔ پھر وہ لکھتا ہے اس کا کام اور اس کی موت اور اس کا رزق اور یہ کہ وہ شقی ہے یا سعید۔ پھر اس کے اندر روح پھونکی جاتی ہے۔ پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے ایک شخص اہل جنت والا کام کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے۔ پھر وہ اہل دوزخ کا کام کرتا ہے۔ اور وہ دوزخ میں جا گرتا ہے۔ اسی طرح تم میں کا ایک شخص دوزخیوں کا عمل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہتا ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے۔ اور وہ اہل جنت کا عمل کرتا ہے پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے (متفق علیہ صحیح البخاری، حدیث نمبر 3208 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1)۔
اس حدیث میں ایک مثال کی صورت میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ آدمی کے انجام کا دارومدار اس کے آخری عمل پر ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اگر اس کو نیک عمل کی توفیق مل رہی ہے تو وہ اس پر گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعد کو پیش آنے والی کسی آزمائش میں وہ پورا نہ اترے اور اس کی زندگی کا رخ بدل جائے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص برائی میں مبتلا ہو تو لوگوں کو اس سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ کیا معلوم اس پر کوئی ایسا تجربہ گزرے جو اس کی اصلاح کر دے اور اس کی زندگی کا رخ برائی سے نیکی کی طرف مڑ جائے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بندہ اہل دوزخ کا عمل کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے ۔ اور ایک بندہ اہل جنت کا عمل کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے ۔ اور اعمال کا اعتبار آخری عمل پر ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6607 ، صحیح مسلم، حدیث نمبر (112)۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے انجام کا فیصلہ خصوصی امتحان کے وقت ہوتا ہے۔ یہ روایت کنڈیشننگ (conditioning) کے اصول سے اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues