Al-Risala · September 2023 · page 22

تکرار

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲

حدیث میں آیا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا لازمی طور پر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ ایسی حالت میں ایمان قبول کرنا، اس کے ذہن کے لیے ایک ایسی حقیقت کو قبول کرنا ہے جو اس کے لیے بالکل نئی ہے۔ اس لیے ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی نئی چیز کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھے، اور اس کو درست طور پر سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان لانے سے پہلے پیشگی طور پر ایک کام کرے۔ یعنی اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) تا کہ وہ ایمان و معرفت کے آئٹم کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے، اور بے آمیز صورت میں اس کو لے سکے۔ ایمان گویا تطهیر ذہن (purification of the mind) کا معاملہ ہے۔ اس تطهیر (purification) کے بغیر کوئی بھی شخص ایمان کو حقیقی طور پر نہیں پا سکتا۔ اس کے بغیر اگر وہ ایمان قبول کرتا ہے تو اس کا ایمان، قرآن کے مطابق، داخل القلب ایمان (49:14) نہ ہوگا، بلکہ وہ ایمان لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوگا، اور لپ سروس والا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ ایک آدمی بظاہر اچھا عمل کرتا ہے مگر کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کے دل میں کھوٹ رہتا ہے۔ امتحان کے وقت یہ کھوٹ سامنے آجاتا ہے۔ اور وہ اس کو برے انجام کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک آدمی بظاہر برا عمل کرتا ہے مگر اس کے دل کے اندر سچائی کی تلاش کا جذبہ موجود ہوتا ہے، پھر کوئی واقعہ پیش آتا ہے اس کے بعد یہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے اور اس کی زندگی برائی سے ہٹ کر نیکی کے رخ پر چلنے لگتی ہے۔ اس طرح ایک بظاہر برا شخص متلاشی حق ہونے کی بنا پر آخر میں جنتی بن جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس ایک بظاہر اچھا شخص اپنی کنڈیشنگ کی وجہ سے ابدی طور پر نا کام لوگوں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچہ کے جنازہ میں بلایا گیا۔ میں نے کہا: اے خدا کے رسول، اسے خوش خبری ہو کہ وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے جس نے نہ تو گناہ کیا اور نہ گناہ کا وقت پایا۔ آپ نے کہا: اے عائشہ، اس کے سوا بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ نے کچھ جنت والے پیدا کیے جنھیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں جنت کے لیے بنایا۔ کچھ آگ والے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page