Al-Risala · September 2023 · page 23

تکرار

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۳

پیدا کیے جنھیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں دوزخ کے لیے بنایا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2662)۔ اس حدیث میں غالباً اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ کا تعلق عمر سے یا کسی اور نسبت سے نہیں ہے۔ جنت ایک بے قیمتی جگہ ہے۔ قرآن کے مطابق ، جنت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ انسانی کی ربانی شخصیات سچائی کی دنیا میں ابدی جگہ پائیں گے (54:55)۔ جنت خدا کے پڑوس (66:11) میں رہنے کا نام ہے۔ اس میں داخلہ کا استحقاق کسی کو صرف اللہ رب العالمین کی رحمت سے ملے گا۔ کوئی اور چیز آدمی کے لیے جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، یا جہنم میں یا جنت میں۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسہ کر لیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ عمل کرتے رہو۔ ہر شخص کے لیے اُسی کو آسان کیا جائے گا جس طرف وہ بڑھے گا۔ چنانچہ جو شخص حق کا متلاشی ہو اس کو حق کے راستہ کی توفیق دی جاتی ہے۔ اور جو آدمی اہلِ شقاوت میں سے ہو تو اس کے لیے ضلالت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی سورہ اللیل سے یہ آیتیں تلاوت فرمائی — پس جس نے مال خرچ کیا اور تقویٰ کا طریقہ اختیار کیا۔ اور اس نے بھلائی کو سچ مانا۔ تو اس کو ہم آسان راستہ کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروا رہا۔ اور بھلائی کو جھٹلایا۔ تو ہم اس کو مشکل راستہ کے لیے سہولت دیں گے (متفق علیہ، صحیح البخاری، حدیث نمبر 1362 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2039)۔

” آسان راستہ “ یعنی فطری راستہ یا جنت کا راستہ۔ ” مشکل راستہ “ یعنی ابدی ناکامی کا راستہ۔ قرآن کی سورہ اللیل کی مذکورہ آیتوں کی روشنی میں اس حدیث کی تشریح کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت یا جہنم کسی کو اتفاقی اسباب سے نہیں ملتی۔ جس آدمی کے اندر سعادت کی چنگاری ہو، یعنی جو سچائی کا متلاشی ہو، اس کو اللہ تعالیٰ قبولیت دے کر اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور جس کے اندر شقاوت کا مرض ہو اس کو ایسے راستے کی طرف ڈھیل دے دی جاتی ہے جو جہنم کی طرف جانے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page