7مارچ1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۵
کہ میں لائبریری کے ریڈنگ روم میں بیٹھ کر کچھ پڑھ رہی تھی، مگر پڑھنا مشکل ہوگیا۔ میں پڑھتی جاتی تھی مگر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریب کی میز پر ایک لڑکی چند لڑکوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ لوگ بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے۔ خاص طور پر لڑکی کا یہ حال تھا کہ مسلسل زور زور سے بول رہی تھی اور قہقہے لگا رہی تھی۔ اس کی وجہ سے ریڈنگ روم میں سکون کا ماحول بالکل ختم ہوگیا تھا۔
یہ واقعہ سن کر مجھے وہ بات یاد آئی جو ایک سیاح نے لکھی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں امریکا گیا۔ وہاں ایک لائبریری میں بھی گیا اور اس کے ریڈنگ روم میں کچھ دیر بیٹھا۔ وہاں ریڈنگ روم میں نوجوان لڑکیاں آتی جاتی تھیں، مگر وہ حد درجہ محتاط تھیں۔ وہ چلنے میں اس کا بھی لحاظ کرتی تھیں کہ ان کے کپڑوں کی سرسراہٹ سے خلل نہ ہو۔ اسی طرح جو لڑکے اورلڑکیاں میزوں پر جھکے ہوئے مطالعہ کر رہے تھے وہ مطلق کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جب انہیں اپنی زیر مطالعہ کتاب کا ورق الٹنا ہوتا تھا تو اس کو بھی نہایت آہستگی سے الٹتے تھے تاکہ کاغذ کی کھڑکھڑاہٹ نہ پیدا ہو۔ ریڈنگ روم کا ہر شخص حد درجہ اس کا خیال کر رہا تھا کہ اس کا کوئی فعل دوسرے لوگوں کے لیے خلل اندازی کا باعث نہ ہو۔ کتنا فرق ہے ایک انسان میں اور دوسرے انسان میں۔ کتنا فرق ہے ایک معاشرے میں اور دوسرے معاشرے میں۔
7مارچ1986
قرآن مجید میں ہے: وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ (188: اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا۔
یہ بہت بامعنی الفاظ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا کے فوائد کا بہت گہرا تعلق غیب سے ہے۔ اکثر ناپسندیدہ حالات صرف اس لیے پیش آتے ہیں کہ آدمی پیشگی طور پر ان کا اندازہ نہ کر سکا تھا۔ بعض اوقات آدمی غیر متوقع طور پر انتہائی شدید حالات میں گھر جاتا ہے۔ وہ اس سے اتنا زیادہ پریشان ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حوصلہ کھودے گا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ناخوش گوار صورت حال اکثر اس سے بہت کم ناخوش گوار ہوتی ہے جتنا آدمی اس کے بارے میں سمجھ لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues