7مارچ1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۶
آدمی پر جب کوئی افتاد پیش آتی ہے تو پریشانی میں وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ ایک بھیانک مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حتی کہ بعض لوگ آنے والے قیاسی خطرات سے گھبرا کر خودکشی کر لیتے ہیں یا کم از کم اپنی صحت برباد کر لیتے ہیں۔ مگر میرا تجربہ یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع پر عموماً ایسا ہوتا ہے کہ مستقبل اس سے کم خطر ناک نکلتا ہے جیسا کہ آدمی نے متاثر ذہن کے تحت اس کو سمجھ لیا تھا۔ جب کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشکل میں ایک آسانی نکل آتی ہے۔ کھونا اپنے انجام کے اعتبار سے پانا بن جاتا ہے۔ 8 مارچ 1986 آج میری کتاب ’’پیغمبرِ انقلاب‘‘ کا انگریزی ترجمہ پہلی بار چھپ کر آیا۔ اس کا نام ہے: Mohammad: The Prophet of Revolution (Presently available as The Life of Muhammad)
میں نے اس کو دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ صرف اللہ کا فضل خاص ہے کہ اسلامی مرکز کا کام اس طرح چل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ ورنہ میرے اپنے بس میں تو کچھ بھی نہ تھا۔
غالباً 1970ء کی بات ہے۔ مجھے یہ خیال آیا کہ میں اپنی بعض کتابوں کا انگریزی ترجمہ شائع کروں۔ اس سلسلے میں مختلف مترجمین سے رابطہ کیا۔ مگر کوئی مجھے پسند نہ آسکا۔ آخر کار معلوم ہوا کہ اردو سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے سب سے بہتر شخص ڈاکٹر آصف قَدْوائی ہیں۔ وہ مولانا علی میاں اور دوسرے حضرات کی دینی کتابوں کا ترجمہ کر رہے تھے۔ اس طرح اس میدان کا خصوصی تجربہ رکھتے تھے۔ میں نے ان کو خط لکھا۔ ان کا چند سطور کا جواب آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میرے پاس ترجمے کے لیے اتنے کام جمع ہیں کہ اگر میں مزید 15 سال زندہ رہوں تو صرف موجودہ کتابوں کے ترجموں کو مکمل کر پاوں گا۔ جب کہ مزید کتابوں کی آمد بدستور جاری ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ مجھے یہ خوش قسمتی کبھی حاصل نہ ہوگی کہ میری کوئی کتاب انگریزی میں عمدہ زبان میں شائع ہو۔ مگر اس کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انگریزی کے لیے ایسے اعلی انتظامات فراہم کر دیے کہ یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبرِ انقلاب جیسی عمدہ انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues