20 مارچ 1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵
سفر کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب انہیں سفر کی اجازت نہیں ملتی تو وہ دوسروں کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے۔ حالاں کہ یہ ظلم نہیں، یہ زندگی کا ایک اصول ہے۔ جو لوگ اس کو ظلم کہیں وہ صرف یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ زندگی کی حقیقت کو نہیں جان سکے۔
20 مارچ 1986
آج(20مارچ 1986) کو مجھے حسب پروگرام پونا میں درس قرآن دینا تھا۔ کئی روز سے میں اس سوچ میں تھا کہ قرآن کے کس حصہ کا درس دیا جائے۔ پچھلی رات کو دہلی میں خواب دیکھا کہ بہت سے لوگ کسی مقام پر جمع ہیں اور میں ان کے درمیان قرآن کا درس دے رہا ہوں۔ یہ درس سورہ آل عمران کے آخری رکوع (آیات 200-190) کا تھا۔
یہ گویا غیبی اشارہ کے تحت اس بات کا تعین تھا کہ کس حصہ قرآن کا درس دیا جائے۔ چنانچہ میں نے مذکورہ رکوع کو عربی تفسیروں میں دیکھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے تحت صحابہ و تابعین کے بڑے قیمتی اقوال اور واقعات موجود ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کو نوٹ کر لیا اور ان کے مطابق درس کی تیاری کی۔
جدید نظریہ یہ ہے کہ اس قسم کا خواب لاشعور کا کرشمہ ہوتا ہے۔ مگر ایمانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ خدائی بشارت ہے۔ میرے اس طرح خواب کے ذریعہ نہ صرف درس کے لیے رکوع کا تعین آسان ہو گیا، بلکہ خود میرے لیے معرفت کا نیا دروازہ کھلا۔ خاص طور پر تفسیر ابن کثیر‘‘ میں اتنے قیمتی اقوال ملے کہ اس کو پڑھتے ہوئے آنکھیں تر ہوگئیں۔
21 مارچ 1986
21 مارچ کو میں پونہ میں تھا۔ ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران ایک صاحب بولے، جن کا نام آفتاب احمد تھا۔ انہوں نے میرے بارے میں اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مولاناوحید الدین صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو آج ساری دنیا جانتی ہے۔ وہ ایک سفر کے دوران افریقہ کے ایک ہوائی اڈہ پر پلین کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس ہوائی اڈہ سے لیبیا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues