19 مارچ 1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۴
اس کے بعد وہ بے تکلف ہندی میں بولنے لگے۔
اسی طرح وہ کبھی اردو میں، کبھی انگریزی میں، کبھی عربی میں اور کبھی ہندی میں بولتے رہے۔ میں نے سوئچا کہ انسان کو بھی اللہ تعالیٰ نے کیسی عجیب صلاحیت دی ہے۔ ریڈیو پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہندی نشریات سن رہا تھا اور پھر سوئچ گھما کر انگریزی نشریات سننے لگا۔ دوبارہ سوچ گھمائی تو عربی نشریات سنائی دینے لگیں۔ انسانی دماغ بھی گویا اسی قسم کا زیادہ اعلیٰ (superior) ریڈیوٹیپ ہے۔ وہ ایک زبان سے دوسری زبان، دوسری سے تیسری زبان اور تیسری زبان سے چوتھی زبان کی طرف منتقل ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی تاخیر ہوئی ہو۔
ریڈیو تو بولی ہوئی آواز کو دہراتا ہے، مگر انسان کا دماغ خود اپنے شعور کے تحت مختلف زبانوں میں کلام کی تخلیق کرتا ہے اور اس کو زبان کے ذریعہ سامنے لاتا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ دماغ اور کیسا عجیب ہے وہ خالق جس نے اس دماغ کو خلق کیا۔
19 مارچ 1986
19 مارچ 1986 کو میں نے انڈین ایئر لائنز کے ذریعہ دہلی سے پونے کا سفر کیا۔ میرا ٹکٹ نمبر 0582/8736912 تھا۔ یہ ٹکٹ دہلی کے دفتر سے 2128 روپیہ میں لیا گیا تھا۔ مگر اس کے چند دن بعد انڈین ایئر لائنز نے اعلان کیا کہ 18 مارچ سے اس نے اپنی تمام پروازوں کے کرائے بڑھا دیے ہیں۔ یہ ٹکٹ یکم مارچ کو خریدا گیا تھا۔ مگر سفر چونکہ 19 مارچ کو ہوا اس لیے ہم کو اضافہ شدہ کرایہ مزید ادا کرنا پڑا۔
میں نے سوچا، اگر میں انڈین ایئر لائنز سے شکایت کروں کہ آپ نے ٹکٹ کی خریداری کے وقت مزید رقم کیوں نہ لی تو یہ ایک احمقانہ بحث ہوگی۔ کیونکہ کرایہ سفر کی قیمت ہے۔ اس لیے کرایہ کا اعتبار وقت سفر کے لحاظ سے ہوگا، نہ کہ وقت خریداری کے لحاظ سے۔
’’یکم مارچ‘‘ کو میں اس ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا مجاز تھا۔ مگر ’’19 مارچ‘‘ کو میں اس ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا مجاز نہ رہا، الّا یہ کہ میں اضافہ شدہ رقم ادا کروں۔ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، چنانچہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں بار بار غلطیاں کرتے ہیں۔ وہ پرانے ٹکٹ پر نیا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues