Al-Risala · September 2023 · page 38

23 مارچ 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸

قابل اعتبار ہے۔ کلیاتِ دین (مثلاً خدا ایک ہے) کو براہِ راست استدلال سے ثابت ہونا چاہیے۔ اگر وہ استنباطی استدلال سے ثابت ہو تو وہ ثابت ہی نہیں ہوا۔

میں نے کہا کہ آپ حضرات کے تمام استدلالات استنباطی ہیں۔ مگر نصب العین جیسے معاملہ میں استنباطی استدلال معتبر نہیں۔ مثلاً مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے "تفہیم القرآن" میں "أَقِيمُوا الدِّينَ" کی آیت کے تحت کئی صفحات لکھے ہیں۔ مگر وہ سب کے سب استنباطی نوعیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو تو مجھے کوئی ایک ایسی کتاب یا مضمون بتائیے جس میں اس معاملہ کو براہِ راست استدلال سے ثابت کیا گیا ہو۔ مگر وہ کسی ایسی کتاب یا مضمون کا حوالہ نہ دے سکے۔ تعجب ہے کہ اس علمی افلاس کے باوجود لوگوں کا یقین برہم نہیں ہوتا۔ 24 مارچ 1986 ممبئی سے شائع ہونے والے مراٹھی اخبار "ترون بھارت" میں شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے کا ایک بیان شائع ہوا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ پندرہ روزہ "حالات" (بھیونڈی) نظر سے گزرا۔ مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا کہ مسلمان مطلقہ عورت کے معاملہ میں اسلامی شریعت کے قانون کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہماری رائے ہے کہ ان پر ہر معاملہ میں اسلامی شریعت نافذ کر دی جائے ۔ پاکستان اور عرب ملکوں میں جرائم کے اوپر اسلامی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مسٹر بال ٹھاکرے نے مشورہ دیا کہ یہی ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے لیے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ شریعت کے مطابق وہ مسلمان چوروں کے ہاتھ کاٹ دے، مسلمان زانی کو سنگسار کرے اور مسلمان شرابی کو کوڑے مارے، وغیرہ۔ مسلمانوں کے لیے اس قسم کے جرائم پر وہی سزا مقرر کی جائے جو ان کی شریعت میں مقرر ہے۔

مسٹر بال ٹھاکرے کی یہ بات تجویز نہیں بلکہ طنز ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعتاً یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلامی شریعت نافذ کی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مسلمان مطلقہ عورت کو گزارہ نہ دینے کے لیے زبردست مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لیے بہت بڑے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page