Al-Risala · September 2023 · page 40

26 مارچ 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۰

خاندانی جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔

ڈاکٹر خان صاحب کی شادی1959ء میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے ایک روز 11 بجے رات کو مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہارا نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بتاؤ کہ تم گھر کا چراغ چاہتے ہو یا شمع محفل۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں شمع محفل لے کر کیا کروں گا۔ مجھ کو تو گھر کا چراغ چاہیے۔ اس کے بعد ان کے والد صاحب نے اپنے انتخاب سے ایک خاتون کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ کاش یہی اسپرٹ ہمارے تمام نوجوانوں میں پیدا ہو جائے۔ 27 مارچ 1986 آج دو صاحبان ملنے کے لیے آئے۔ دونوں وکیل ہیں اور دینی مزاج رکھتے ہیں۔ انہوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب کی کتاب ”عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح“ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ کتاب مولانا مودودی کے فکر کی تردید میں لکھی گئی ہے۔ مگر عملاً وہ اس فکر کی تردید نہیں، بلکہ تصدیق بن گئی ہے۔ یہ کتاب ایک مضبوط کیس کی کمزور وکالت ہے۔

میں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں بنیادی طور پر دو قسم کے دینی فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک تبلیغی جماعت کا دینی فکر اور دوسرا ابوالاعلیٰ مودودی کا دینی فکر۔ جس میں، میں مولانا علی میاں کو بھی شامل سمجھتا ہوں۔ مولانا علی میاں کا فکر بدلے ہوئے الفاظ میں مولانا مودودی ہی کا فکر ہے۔ میں نے کہا کہ سوچنے کے دو طریقے ہیں— ایک انقلاب فرد اور دوسرا انقلاب نظام۔ تبلیغی فکر کے مطابق دینی دعوت کا اصل نشانہ یہ ہے کہ فرد کے اندر انقلاب پیدا کیا جائے گا۔ مودودی فکر کے مطابق دینی دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ نظام کے اندر انقلاب لایا جائے۔

انقلاب نظام کا فکر سراسر غیر دینی ہے۔ مگر بدقسمتی سے مولانا علی میاں کا فکر بھی بنیادی طور پر یہی ہے۔ اور اگر یہ نہ ہو تو وہ یقینی طور پر غیر واضح ہے۔ دین کا اصل کام یہ ہے کہ فرد کے اندر فکر یا انقلاب پیدا کیا جائے۔ فرد کے اندر خدا پر یقین اور آخرت کی فکر پیدا کیا جائے۔ تبلیغی جماعت اصلاً یہی کام کر رہی ہے اور بلاشبہ یہی کرنے کا اصل کام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page