بے خبری کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۳
بے خبری کا مسئلہ
قدیم زمانے میں ملکی اعتبار سے کوئی مسلّمہ سرحدی حد بندی موجود نہ تھی۔ اس کی وجہ سے دنیا میں وہ کلچر رائج تھا، جس کو ایک قدیم فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ہَر کہ شمشیر زند سکّہ بنامش خوانند (جو شخص تلوار چلاتا ہے، اسی کے نام کا دنیا میں سکہ چلتا ہے)۔ اس کلچر نے عملاً دنیا میں ایک قسم کی انارکی قائم کر رکھی تھی۔ دنیا میں مسلّمہ اصول کی بنیاد پر قائم شدہ سرحدیں موجود نہ تھیں۔ اس بنا پر قدیم دنیا میں کبھی کوئی بڑی ترقی نہ ہوسکی۔ کیوں کہ دنیا میں جغرافی استحکام (stabiliy) موجود نہ تھا، اور استحکام کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں۔
پہلی جنگ عظیم (1918-1914ء) کے بعد دنیا کے مدبرین نے اس مسئلے پر سوچنا شروع کیا۔ اس سوچ کا یہ نتیجہ نکلا کہ دنیا میں جغرافی حد بندی کا تصور رائج ہوا، جس کو مبنی بر وطن قومیت (Nation State) کہا جاتا ہے۔ اس اصول کو عملاً تمام ملکوں میں تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن اس معاملے میں مسلم لیڈروں کا استثنا ہے، جو اس معاملے میں عدم وضوح کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ مثلاً جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان، محمد اقبال، اور سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ اس لیے وطنی قومیت کا تصور مسلمانوں میں ڈیولپ نہ ہو سکا۔
راقم الحروف کے نزدیک پہلی جنگ عظیم نے ایک جبر (compulsion) پیدا کیا۔ اس کی وجہ سے مبنی بر وطن قومیت کا تصور رائج ہوا۔ یہ بلاشبہ ایک جغرافی نعمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر اس زمانے میں مسلم لیڈروں میں اینٹی برٹش سوچ کا غلبہ تھا۔ اس منفی سوچ کی بنا پر مسلم لیڈر وطنی قومیت کے بارے میں بھی بروقت کوئی فیصلہ نہ لے سکے۔ اور مسلمانوں میں وطنی قومیت کا مسئلہ ایک ناپسندیدہ تصور کی حیثیت سے رائج ہو گیا۔ آج مسلمان اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کی قومی وفاداری آج کل ہر جگہ مشکوک سمجھی جاتی ہے مسلمانوں میں غالباً مولانا حسین احمد مدنی تھے، جنھوں نے کہا تھا کہ فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ لیکن ان کے شاگردوں نے ان کی وفات کے بعد یہ اعلان کر کے ان کی بات کو غیر مؤثر بنا دیا کہ حضرت نے یہ بات بطور خبر کہی تھی، بطور انشاء نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues