بے خبری کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۴
جغرافی حد بندی کے بعد ایک اور مسئلہ باقی تھا۔ وہ تھا، عالمی امن (world peace) کا مسلّمہ اصول۔ یہ مسئلہ دوسری جنگ عظیم کے ذریعے طے ہوا۔ دوسری جنگ عظیم نے ہتھیار کا نیا تصور قائم کیا۔ وہ تھا، ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن (weapons of mass destruction)۔ یعنی دنیا میں جو ہتھیار رائج ہوئے، وہ عمومی تباہی کے ہتھیار تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ایسے ہتھیار بن گئے، جو دو طرفہ تباہی کرتے تھے۔ یعنی آپ دشمن کو ماریں، تو آپ خود بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال نے دوبارہ لوگوں کے اندر یہ سوچ پیدا کی کہ اب جنگ ایک ایسی چیز ہے، جس میں کسی فریق کو کوئی فائدہ نہیں۔ اس صورت حال نے یہ عالمی ذہن پیدا کیا کہ اب جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ کیوں کہ جنگ کسی کے لیے مفید نہیں ہے۔ برطانیہ کے سابق پرائم منسٹر چمبرلین (1869-1940ء) نے کہا تھا کہ جنگ میں کوئی بھی سائیڈ اپنے آپ کو فاتح کہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں کوئی جیتنے والا نہیں ہے، تمام لوگ ہارنے والے ہیں:
In war, whichever side may call itself the victor, there are no winners, but all are losers. سابق امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے اس سنگین حقیقت کو اس طرح بیان کیا تھا کہ جدید جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے، صرف بچ جانے والے ہیں: In modern warfare there are no victors; there are only survivors. اس طرح عالمی جنگ اول اور عالمی جنگ ثانی دونوں نے ایسا کمپلشن (compulsion) پیدا کیا، جس نے لوگوں کو اس اصول کو ماننے پر مجبور کیا کہ اب جنگ بند کرو۔ کیوں کہ جنگ میں کوئی جیتنے والا نہیں ہوگا۔ سب ہارنے والے ہوں گے۔ اس طرح پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں ٹریویل ڈکومنٹ کا اصول رائج ہوا۔ یعنی جس کے پاس پاسپورٹ اور ویزا ہو، اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ یہ دونوں اصول دعوت الی اللہ کے مشن کے لیے بے حد مفید تھے۔ اس اصول کے رواج نے پہلی بار دنیا میں عالمی دعوت کے امکان کو واقعہ بنایا۔ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے اس اصول کو اپنے انٹرسٹ کے لیے جانا، لیکن دعوت الی اللہ کے لیے اس کی اہمیت کو وہ نہ سمجھ سکے۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی بے خبری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues