استطاعت کا اصول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۷
استطاعت کا اصول
قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جو احکام ہیں، وہ سب کے سب ”استطاعت“ پر مبنی ہیں۔ یعنی خدا کے دین میں عمل بقدر استطاعت کا اصول ہے۔ استطاعت سے زیادہ کا مکلف بنانا اللہ کا طریقہ نہیں (البقرہ، 2:286 ؛ التغابن، 64:16)۔ یہ اصول فرد (individual) کے لیے بھی ہے، اور سوسائٹی کے لیے بھی۔
فقہاء کا اتفاق ہے کہ دینی عمل کی ادائیگی کی شرط استطاعت ہے (اتفق الفقهاء علی أن الاستطاعة شرط للتكليف )۔ لہذا جو انسان کسی عمل کو انجام دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اس کے اوپر اس عمل کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ اصول قرآن وسنت کے بہت سارے نصوص سے ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن (2:286) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 3، صفحہ 330)۔
استطاعت کا مطلب ہے ۔ کسی خاص عمل کی انجام دہی کے لیے انسان میں جسمانی یا ذہنی کام کو کرنے کی صلاحیت یا قوت یا طاقت کا موجود ہونا:
An aptitude or ability for a particular activity, capacity or power to do a physical or mental thing. مسلم علما کے نزدیک استطاعت کا مطلب ہے کہ انسان کسی چیز کو جان یا مال کے ذریعے سے کرنے پر قادر ہو۔ یہ حالت بدلتی رہتی ہے، لوگوں کے حالات کے بدلنے سے، اور نتائج کے بدلنے سے ( المستطيع هو القادرُ في مالِهِ وبَدَنِه، وذلك يختلف باختلاف أحوالِ النَّاسِ، واختلاف عوائدهم ) الموسوعة الفقهية للستقاف، جلد 2، صفحہ 44۔
"عمل بقدر استطاعت " کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ زندگی کا یہی واحد فطری اصول ہے۔ انسان جب دنیا میں کوئی عمل کرنا چاہتا ہے تو یہ ہمیشہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہوتا ہے۔ انسان اتنا ہی کرسکتا ہے، جتنا خارجی حالات اس سے موافقت کریں۔ خارجی حالات کی موافقت کے بغیر انسان کوئی کام نہیں کرسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues