گرین لینڈ، ایک وارننگ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۶
کی گہرائی اور کیفیت معلوم کی ہے۔ پال نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ نیچے جو برف پگھل کر پانی بہہ رہا ہے وہ پرانے اندازہ سے بھی 100 گنا زائد ہے، اور اس کی رفتار براہ راست دھوپ سے پگھلنے والی برف سے زیادہ تھی۔ اس کی دو وجوہات ہیں ۔ اول ، اوپر کا گرم پانی نیچے جمع ہو کر مزید برف پگھلا رہا ہے۔ دوم، قوت کشش سے بھی برف گھل رہی ہے۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ جہاں آئس لینڈ جیسی برفانی پرتیں ہیں وہاں بھی برف پگھلنے کی رفتار اتنی ہی تیز ہوسکتی ہے۔ (urlty.co/mJTW) مولانا وحید الدین خاں صاحب گلوبل وارمنگ کے تعلق سے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ” یہ صورت حال زمین کے اوپر ہر قسم کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہوگی ۔ کوئی بھی انسانی تدبیر ان کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے گی ۔ بالواسطہ یا براہِ راست طور پر اس کا اثر تمام انسانی آبادیوں تک پہنچ جائے گا۔ حالات بتاتے ہیں کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا خاتمہ ہوجائے۔ “ (الرسالہ، مئی 2008) ، اور وہ دن آجائے جب کہ تمام لوگ اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے، قرآن کے الفاظ میں، خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے (83:6)۔
اس لیے یہ وقت کا تقاضا ہے کہ انسان اس دن کے آنے سے پہلے اپنے لیے ضروری تیاری کر لے تا کہ وہاں کسی قسم کی ناکامی کا سامنا نہ پیش آئے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی عیسوی میں کہا تھا کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ انسان کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6505) ۔ گلوبل وارمنگ کا ظاہر ہ بتاتا ہے کہ یہ فاصلہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ جدید سائنس جس موسمیاتی تبدیلی (clamatic change) کی خبر دے رہی ہے، وہ تبدیلی سائنس دانوں کے بیان کے مطابق، اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس کو دوبارہ الٹی طرف لوٹانا ممکن نہیں ۔ اب آخری وقت آگیا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو بدلے۔ حالات کی یہ خاموش پکار ہے کہ انسان اپنے آپ کو درست کرلے، اس سے پہلے کہ اپنے آپ کو درست کرنے کا موقع اس کے لیے باقی نہ رہے (دیکھیے: الرسالہ جولائی 2008) ۔ ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues