کائناتی عبادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۶
مطالعہ حدیث شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 95-86)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے ہر آدمی پر اس کے حصہ کا زنا لکھ دیا ہے جس کو وہ ضرور پائے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو ہے۔ دل تمنا اور خواہش کرتا ہے، شرمگاہ اس خواہش کو سچا یا جھوٹا کرتی ہے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6343، صحیح مسلم، حدیث نمبر 20)
مرد اور عورت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے شدید کشش رکھی گئی ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے دل میں دوسرے کی نسبت سے غلط خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ایسے کسی خیال پر اس وقت تک پکڑ نہیں جب تک کہ اقدام کر کے اس کو عملی واقعہ نہ بنا دیا جائے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کا کیا خیال ہے، لوگ آج جو عمل کر رہے ہیں اور جو کچھ وہ کوشش کر رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں (پہلے) فیصلہ ہو چکا ہے، یعنی جو ان میں جاری ہو چکا ہے، وہ پہلے ہی سے مقدر ہے۔ یا وہ ان چیزوں میں سے ہے جو مستقبل میں طے ہوتا ہے اس بنیاد پر جیسا کہ ان کے نبی ان کے پاس (تعلیم) لائے، اور حجت قائم ہوگئی۔ آپ نے فرمایا، نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں قرار پا چکی ہے اور وہ ان میں جاری ہے، اُس اعتبار سے جیسا کہ اللہ کی کتاب (7-91:8) تصدیق کرتی ہے: اور جان کی قسم جیسا کہ اس کو ٹھیک کیا۔ پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (10) قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا مطلب یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues