کائناتی عبادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۷
انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور نیکی اور بدی کا شعور پیدائشی طور پر اس کے اندر رکھ دیا ہے۔ اس کو عقل و شعور کی صلاحیت عطا کی ہے، جس کے ذریعہ وہ برائی اور بھلائی کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ اس کو یہ سمجھ عطا کی ہے کہ دنیا میں کیا چیز اس کے لیے بری ہے، اور کیا چیز اچھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر انسان کی پکڑ ہوگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور میں اپنے آپ پر گناہ سے ڈرتا ہوں۔ اور میں یہ وسعت نہیں پاتا کہ میں عورتوں سے نکاح کروں۔ گویا کہ وہ آپ سے خصی (castrate) ہونے کی اجازت چاہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ اسی طرح پوچھا۔ مگر آپ خاموش رہے۔ میں نے پھر وہی دہرایا۔ مگر آپ خاموش رہے۔ میں نے چوتھی بار وہی بات دہرائی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ، قلم خشک ہو چکا، جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، چاہے تم خصی بن جاؤ یا تم رہنے دو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5076)۔
بار بار سوال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی غالباً اس لیے تھی کہ اسلام میں یہ پسندیدہ نہیں کہ آدمی ہر مسئلہ کو شرعی مسئلہ بنا کر اس کے بارے میں سوال کرے۔ اسلام کے مطابق آدمی کے لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ شریعت کے واضح احکام کو سامنے رکھے اور پھر اپنے ضمیر کی روشنی میں معاملے کا فیصلہ کرے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام انسانوں کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، ایک دل کی مانند۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو پھیرتا رہتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ، دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرماں برداری کی طرف پھیر دے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2654)
اس حدیث کا مطلب مذکورہ دعا (اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ) کے ذریعہ واضح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنا تزکیہ نفس کرنا چاہے اس کو اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues